حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 116 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 116

کے اظہار کے ساتھ فرمایا۔ایک روزہ ملاقات کے لئے آنے والی خاتون نے ہونے والے بچے کے لئے تبرک کے طور پر شہد کی فرمائش کی۔میں نے خادمہ سے کہا ان سے کہو کہ کل صبح آکر سے جائیں میں ناشتے پر ان سے تبرک سے رکھوں گی۔اگلے روز جب آپ ناشتہ کر رہے تھے میں نے آپ سے اُن خاتون کے لئے شہر کا تبرک دینے کے لئے کہا۔شہد کی جو بوتل زیر استعمال تھی آپ نے اس کا سارا شہد ان خاتون کی لائی ہوئی شیشی میں انڈیل دیا لیکن بوتل میں شہر زیادہ نہ تھا آپ نے مجھ سے فرمایا۔نئی بوتل سے آؤ اس میں سے ڈال دیتا ہوں کہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ حضرت صاحب کی نئی بیوی کنجوس ہیں۔اپنے چھوٹے چھوٹے کام مجھے خود سکھائے۔مثلاً شلوار میں ازار بند ڈال کر اس کے بل کیسے ٹھیک کرتے ہیں۔کلف زیادہ ہو تو پہلے سلائی نیفے میں پھر ا لو۔جب ہم پہلی بار اسلام آباد گئے تو آپ نے اپنے سکس کی تیاری خود میرے ساتھ کہ وائی۔آپ بڑی خوبصورتی سے ہر چیز قرینے سے اپنی جگہ یہ رکھتے۔اچکنیں خود نکال کر دیں کہ انہیں تہہ کر کے بکس میں رکھ دو۔مجھ سے پوچھا تمہیں اچکن تہ کرنی آتی ہے ؟ میں نے کہا نہیں۔پھر آپ نے عزیزہ شکری سے کہا کہ انہیں چکن تہ کرتی سکھا دو۔اپنا کام خود کرنے کے عادی تھے اور زیادہ تر اپنے چھوٹے چھوٹے کام خود اپنے ہاتھ سے کرتے۔اپنا ہر کام بہت نفاست سے کرتے۔سفر کے لئے اپنا بجس مجھ سے تیار کروا رہے تھے۔ہر چیز احتیاط اور خوبصورتی سے رکھواتے۔مجھے حیرت بھی ہوتی اور مزہ بھی آتا۔اور ساتھ ہی مجھے اپنا پرانا وقت یاد کر کے