حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 103 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 103

۹۹ سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کے کردارہ کے بارہ میں بھی بتاتے۔چھوٹی چھوٹی باتوں کا بھی خیال رکھتے۔شلاً بات چیت ، ملنا جلنا ، پردہ وغیرہ۔لیکن ایسے نہیں تھا کہ مجھے یہ محسوس ہو کہ آپ ہر وقت مجھے نصیحت کر رہے ہیں یا ٹوک رہے ہیں بلکہ غیر محسوس طریق پر یہ سب کچھ کرتے۔اور میری چھوٹی سے چھوٹی خوبی کو بھی سراہتے اور حوصلہ افزائی فرماتے۔کئی بارہ مجھ سے فرمایا " تم ذہین ہو، صاحب فراست ہو گا اور یہ بھی کر سکتی بہت جلد ہو۔“ شادی کے دوسرے یا تیسرے روز ہم کھانا کھا رہے تھے۔آپ نے میری طرف کر ؟" دیکھتے ہوئے مسکرا کر فرمایا " APPROVED“ میں نے پوچھا کیا ؟ " فرمایا ”جس طرح سے تم نعمہ منہ میں ڈالتی ہو اور منہ بند کرتی ہو وہ بہت اچھا ہے " آپ کو میرا کھانے کا طریق بہت پسند تھا۔چنانچہ پھر ایک روز مجھ سے فرمایا " تمہیں کسی نے BRIEFING دی تھی کہ میرے سامنے یوں کھانا " میں نے کہا BRIEFING تو کسی نے نہیں دی تھی۔ویسے میں آپ کے سامنے ذرا CAREFUL ہو کر کھاتی ہوں۔فرمایا اچھا پھر میرے سامنے ہمیشہ CAREFUL ہو کر ہی کھانا " " پھر جب آپ 16 اپریل کو میرے امی ابا کے گھر گئے تو ان سے ہنستے ہوئے کہنے لگے۔یہ کہتی ہیں کہ میرے اور کسی بہن بھائی کو کھانا کھانا آئے یا نہ آئے مجھے بہت اچھی طرح کھانا کھانا آتا ہے۔ایک روز میں نے امی کی کسی بات یا کام کی تعریف کی ( مجھے اب یاد نہیں کس بات کی، مجھے بیچے میں ہی روک کر فرمایا " ٹھہر ٹھہرو۔امی نے بس ایک اچھا کام کیا تمہارے جیسی بیٹی پیدا کر دی یہ میں جانتی ہوں کہ یہ صرف آپ کی محبت اور شفقت