حضرت مرزا ناصر احمد — Page 99
۹۵ تو آپ بہت خوش تھے۔کئی بار ہنستے ہوئے مجھ سے کہا۔"اچھا تو پھر آپ گل بل سے بھی زیادہ خوش ہیں“۔مجھ سے کہتے جب تم خوش خوش تیار ہو رہی ہوتی ہو تو میں بہت ENJOY کرتا ہوں۔ایک روز ناشتے پر میں کچھ خاموش تھی۔آپ نے خاموشی کی وجہ پوچھی۔کوئی خاص بات میرے ذہن میں نہ تھی۔اس لئے میں نے کہا۔" کوئی بات نہیں ، آپ سمجھے شاید میں چھپا رہی ہوں۔اس لئے اصرار فرمایا۔جب میں نے کچھ نہ بتایا تو آپ کو رنج ہوا۔اچانک آپ ناشتے کی میز سے اُٹھ گئے اور قدر سے ناراضگی سے فرمایا۔اب اگلے دو گھنٹے تم مجھ سے بات نہ کرنا ہے اور غسل خانے میں تشریف لے گئے۔میں کمرے میں آکر خاموشی سے بیٹھ گئی اور اس صورت حال سے حیران اور پریشان تھی۔لیکن ابھی میں بیٹھی سوچ ہی رہی تھی کہ آپ فورا د معمول کی نسبت بہت جلدی واپس آگئے اور آکر میرے پاس بیٹھتے ہوئے فرمایا ” میں نے سوچا پتہ نہیں تمہارا کیا حال ہو رہا ہو گا اس لئے جلدی آگیا۔ناراضگی کا شائبہ بھی نہ تھا بلکہ صرف محبت اور پیار ہی تھا۔یہ واحد موقع تھا آپ نے مجھ سے کسی ناراضگی کا اظہارہ فرمایا جو کہ خود بھی چند لمحوں سے زیادہ برداشت نہ کر سکے۔اسی طرح ایک روز اسلام آباد میں آپ کی آخری علالت سے قبل ایک روز یکی ناشتے پر خاموش تھی جس کا مجھے خود احساس نہیں تھا۔جب ہم کمرے میں آئے تو آپ نے پوچھا تم خاموش کیوں ہو۔میں نے کہا کوئی بات نہیں۔میرے ذہن میں واقعی کوئی خاص بات نہیں تھی۔آپ نے بار بار پوچھا اور میرے انکار پر آپ نے کہا " تم میرا وقت ضائع کر رہی ہوگا آپ نے دفتر جانا تھا ، اس پر میں گھر گئی اور میں