حضرت مرزا ناصر احمد — Page 155
۱۴۷ دیتے۔مجھے یہ دیکھ کر بہت گھیر اہٹ ہوتی کہ آپ آرام نہیں کر رہے اور غنودگی کی حالت میں بھی کاموں کا بوجھ لے رہے ہیں۔آپ نے آخری روز دوپہر کو مجھ سے انہیں شرع کے چار دنوں کے بارے میں فرمایا۔" میں نے اللہ تعالیٰ سے بہت باتیں کیں۔پہلے دن آپ کو DIGOXIN LASIX ASIX اور PETHEDINE دی گئیں۔تیسرے یا چوتھے دن ایک دن کے لئے بند کی گئی تو آپ کی سانس کی تکلیفت دوبارہ بڑھ گئی۔چنانچہ LASIX دوبارہ شروع کر دی گئی ANTIBIOTICS میں سے پہلے AMPICLOX Foomg دی جاتی رہی اور پھر بعد میں NE 3RAM بھی دی گئی۔خون میں شکر ایک دم بہت زیادہ ہوگئی۔پہلے دن کی رپورٹ کے مطابق غالباً INSULINE بھی دی جاتی رہی۔نیند کیلئے %ACOmg سے بھی زیادہ تھی اس لئے 400mg% بعد میں 5 VALIUM بھی دیتے رہے۔AT VAN بھی دی گئی۔برطانیہ سے آئے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے HEPARINE (خون پتلا کرنے والی دوائی بھی شروع کہ وادی۔حضور کی عادت تھی کہ کبھی کوئی دوائی اس وقت تک استعمال نہ فرماتے جب تک کہ اس کے متعلق پوری معلومات حاصل نہ کر لیں۔اس علالت میں آپ اتنی تفصیل سے تو نہیں جان سکتے تھے لیکن پھر بھی کوشش فرماتے کہ انہیں ہر بات کا علم ہو۔چنانچہ مجھ سے HEF APINE کے متعلق بھی پوچھا کہ یہ کس لئے استعمال کرتے ہیں۔اسی طرح ڈاکٹر شاہد صاحب جو امریکہ سے تشریف لائے تھے انہوں نے بھی دل کا دوران خون بہتر کرنے کے لئے ایک دوا استعمال کروائی تو آپ نے فرمایا کہ یہ پہلا موقعہ ہے کہ میں نے کوئی دوائی بغیر اس کے متعلق علم حاصل کئے استعمال کی ہے۔- عام دنوں میں مختلف دوائیاں حضور بطور مختلف دوائیاں حضور بطور FOOD SLIPLIMENT لے لیا