حضرت مرزا ناصر احمد — Page 154
۱۴۶ (مبالغہ نہ ہو۔اتنا پیار کرنے والی میری جماعت ہے۔رات بھر حضور کی طبیعت بہت ناسانہ رہی۔چونکہ پیشاب آور دوا بھی دی ہوئی تھی اس لئے بار بار پیشاب آنے اور کھانسی آنے سے حضور کی آنکھ کھلتی رہی۔اگلے روز شام کو کراچی سے دل کے امراض کے ماہر جنرل شرکت صاحب تشریف لائے۔ان کے ساتھ راولپنڈی کے ہی ایک اور ڈاکٹر اور ڈاکٹر نوری بھی تھے۔اگرچہ اس وقت بھی حضور کو بات کرنے میں بہت دشواری تھی۔لیکن آپ پور سے حوصلے اور قوت کے ساتھ کوشش کر کے ان سے بات چیت کرتے رہے اور اپنی کیفیت انہیں بتائی۔باتوں کے دوران آپ نے ان سے فرمایا کہ آپ تدبیر کو انتہا تک پہنچائیں اور ہم دعا کو۔آگے پھر خُدا کی مرضی۔شروع کے تین چار دن تو طبیعت حد سے زیادہ ناسانہ تھی۔اور زیادہ تر وقت نیند اور دوا کا اثر رہتا تھا۔جنرل شرکت صاحب نے حضور کو CATHETERISE کرنے کا مشورہ بھی دیا۔کیونکہ حضور کو پیشاب آور دوا دی جارہی تھی اور بار بار پیشاب کی حاجت ہوتی تھی جنرل محمود الحسن صاحب نے حضور کو CAT HETERISE کیا اور اس دوران ایک معمولی MEAOTOMY بھی کیا۔حضور کو اس سے کافی تکلیف ہوئی۔ساد پریشین نماعمل اور بعد میں مجھ سے رنج کا اظہار بھی فرمایا۔کہ آپ سے پوچھے بغیر یہ عمل کیوں کیا گیا۔اور فرمایا۔اب یہ معاملہ خدا نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔“ بیماری کے شروع کے تین چار دن طبیعت ناساز تھی۔نیند آور دوا دی ہوئی تھی لیکن میں نے دیکھا کہ جب آپ بظاہر سو بھی رہے ہوتے تو آپ کے ہونٹ اس طرح سے ہلتے تھے جیسے باتیں کر رہے ہوں کبھی کبھی کوئی فقرہ یا لفظ اُونچی آوازہ میں بھی کہنہ