حضرت مرزا ناصر احمد — Page 94
9۔رہے تھے کہ میں واقعی اسے ماں باپ سے زیادہ پیار دینے میں کامیاب ہو گیا ہوں۔اور یہ حقیقت تھی۔آپ نے خود بھی مجھ سے فرمایا کہ : - جتنا پیار ہیں تم سے کہتا ہوں دنیا میں اور کوئی اتنا نہیں کر سکتا۔مجھے شادی سے پہلے پیغام بھیجا کہ اسے کہنا کہ بے شک مجھ سے کبھی کبھی لڑ تھی لیا کہ سے کیونکہ اسی میاں بیوی میں پیار بڑھتا ہے۔پھر شادی کے بعد بھی مجھ سے یہ بات کئی دفعہ کہی اور ہوتا ہوں کہ اگر میں کسی بات پر ناراض ہوتی یا مجھے غصہ آتا تو فوراً ہی بات کو یوں پلٹ دیتے اور اس کی ایسی وضاحت کرتے کہ میرا غصہ ختم ہو جاتا اور اس کے فوراً بعد آپ مجھ سے سوال کرتے یہ تمہارا پیار بڑھا ، اور ایسا کئی مرتبہ ہوا۔آپ کی محبت اتنی گہری اور اپنے اندر اتنی وسعت رکھتی تھی کہ آپ کا میرے ساتھ گزرا ہو کوئی لمحہ ، کوئی واقعہ بھی ایسا نہیں جس میں اس کی خوشبو نہ رچی ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ بھی ڈالتا ہے وہ ثواب کا مستحق ہے۔چنانچہ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ آپ ناشتہ کرتے ہوئے اپنے ہاتھ سے انتہائی محبت سے میرے منہ میں لقمہ ڈالتے۔ناشتے پر آپ انڈے کا استعمال فرماتے تھے۔مجھے پسند نہ تھا اور پراٹھے کا بھی شوق نہ تھا۔اس لئے میں اپنے لے پھل کا پکواتی اور اسے ہلکا چپڑ کر کھاتی آپ نے مجھ سے کہا کہ تم بھی اپنے لئے انڈا بنوایا کرو۔میں نے کہا مجھے پسند نہیں۔لیکن آپ کو یہ برداشت نہ تھا کہ آپ کھائیں اور میں نہ کھاؤں۔چنانچہ آپ کا روزانہ کا معمول تھا کہ آپ ضرور اپنی پلیٹ میں سے کچھ SCRAMBLED EGG