حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 93 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 93

19 اور غیر سبھی بے ساختہ سراہتے ہیں۔یعنی محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں اور آپ کی زندگی کا لمحہ محہ اس قول کی سچی تصویر ہے۔بے انتہا محبت فرماتے لیکن محبت کو جنانا پسند نہ تھا۔خاموشی سے گہری محبت کرتے چلے جاتے۔آپ کی ذات ایک خاموش سمندرکی مانند تھی جو کہ انتہائی سکون سے بہہ رہا ہو اور اسکی گہرائی کا کسی کو انداندہ نہ ہو۔یں اپنے گھر میں سب سے چھوٹی تھی اس لئے اپنے والدین کا بھی بے پناہ پیار مجھے حاصل رہا۔اور بڑے بہن بھائی چونکہ عمر میں کافی بڑے ہیں اس لئے ان کی طرف سے بھی انتہائی پیار ملتا رہا۔اپنے ارد گرد کے ماحول سے بھی ہمیشہ محبتیں ہی ملتی رہیں لیکن میں بالکل سچ کہتی ہوں اور دل کی گہرائی سے یہ بات محسوس کرتی ہوں کہ چاروں طرف سے ملنے والے اس بے حساب پیار کے مقابلہ۔میں حضرت صاحب کی طرف سے ملنے والا پیار پھر بھی زیادہ تھا۔جب پہلی مرتبہ ہم اسلام آباد گئے تو ایک روز ہم ناشتے کی میز پہ بیٹھے تھے۔رتی آئیں۔وہ ان دنوں پنڈی آئی ہوئی تھیں۔میں انہیں فون بھی نہ کر سکی۔انہیں مجھ سے شکوہ تھا۔مجھ سے کہا یہ لگتا ہے تمہیں اتنا پیار ملا ہے کہ ماں کا پیار بھی بھول گئی ہو یا حضور پاس ہی بیٹھے تھے۔پوچھنے لگے کہ امی کیا کہ رہی ہیں۔میں نے بتایا تو مسکرائے۔ان کے جانے کے بعد بار بار مجھ سے پوچھا کہ اچھا تو پھر امی کو تم سے کیا شکوہ تھا اور ان کی بات دہرا کہ ہفتے رہے۔آپ اس بات سے لطف سے