حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 92 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 92

AA گھوڑوں پر سوار سے سواری کر دا کر دکھائی۔میں نے ایک عربی گھوڑے کی خاص نمایاں بات جو اس وقت مجھے نظر آئی عرض کی میں نے کہا اس کے مسلمہ MUSCLES بہت TENSE بہت TENSE میں میری توجہ اُس کی ٹانگوں کے نچلے پچھوں پر تھی۔چند دن بعد حضور عربی گھوڑوں پر لکھی ہوئی ایک انگریزی کتاب مجھے دکھانے لگے مصنف نے عرب گھوڑے کی اُسی نمایاں خوبی کا ذکر کیا ہوا تھا۔EVERY MUSCLE TENSE WITH POWER AND ENERGY پڑھ کر بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے ، دیکھو اس نے بھی تمہارے والی بات لکھی ہے۔پھر ایک روز مجھے گھوڑوں سے متعلق ایک کتاب میں سے ہے۔مضمون نکال کر دیا جو کہ ایک لڑکی کی کہانی تھی۔حضور کو جو بات اس میں پسند تھی اور جس کی خاطر مجھے اس مضمون کو پڑھنے کے لئے دیا وہ اس لڑکی کے ارادے کی پختگی اور استقلال اور محنت بھی۔10 منٹ مجھے دیئے کہ ان میں اس مضمون کوختم کرو۔شادی پر حضور نے تین دن کے لئے دفتر سے چھٹی کی۔فرمایا میں نے سترہ سال میں پہلی مرتبہ چھٹی لی ہے آپ کی شخصیت بہت ہی دل آدینا اور حسین تھی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو ظاہری اور باطنی دونوں قسم کے حسن سے بھر پور انداز میں نوازا تھا۔آپ دوسرے انسانوں کے حسن کو بھی پہچانتے تھے اور اس کے دلدادہ تھے۔آپ کی شخصیت کی بعض خوبیاں بہت نمایاں تھیں۔محبت آپ کی شخصیت کا نمایاں ترین وصف تھا۔محبت کے اسی گہرے جذبے کی عکاسی کرتا ہوا آپ کا یہ قول ہے جیسے اپنے