حضرت مرزا ناصر احمد — Page 5
بسم الله الرحمن الرحيم عرض حال ابتداء میں بند کی خواہش پر میرا ارادہ تھا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کی سوانح و سیرت پر ایک مختصر مضمون لکھوں۔چنانچہ میں نے یہ مضمون لکھا اور اپنی تمام تمہ کوشش کے باوجود میں اسے زیادہ مختصر نہ لکھ سکی۔حضور نے اپنی سوانح حیات مختلف ادوار میں تقسیم کر کے مجھے واقعاتی زنگ میں سنائی تھی۔آپ کا یہ معمول تھا کہ صبح ناشتے پر اور شام کی چائے پر قریب ایک ڈیڑھ گھنٹہ آپ مجھ سے یہ واقعات بیان فرماتے۔میری خواہش تو یہی تھی کہ ان بیان فرمودہ واقعات کی روشنی میں زیادہ تفصیل کے ساتھ آپ کی سوانح لکھتی لیکن طوالت کے خوف سے ایسا نہ کر سکی۔میری تمام تر کوشش کے باوجود یہ مضمون کچھ طویل ہو گیا۔اس لئے اسے کتابی شکل میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا بصیرت کا حصہ جو کہ پہلے بہت ہی مختصر تھا اُسے دوبارہ لکھا اور کسی قدر تفصیل سے واقعات لکھے۔لیکن اس حصے میں مجھے خود بھی یہ کمی محسوس ہوتی ہے کہ سیرت کے ضمن میں میں نے صرف وہی واقعات لکھے ہیں جو میرے ساتھ ذاتی طور پر پیش آئے۔اور وسیع نظر سے حضور کی تمام زندگی پر نظر ڈالتے ہوئے سیرت کے مضمون کو بیان نہیں کیا۔