حضرت مرزا ناصر احمد — Page 32
۳۲ سکائی نہ سے زیادہ POLISHED (مہذب) ہوتے ہیں۔انہیں ایک دوسرے کے لئے چھوٹی چھوٹی قربانیاں دینے کی عادت پڑ جاتی ہے۔قید و بند ۱۹۵۳ء داء میں جماعت کے خلاف ہونے والے فسادات کے دوران آپ کو ایک آرائشی خنجر گھر میں رکھنے کا بہانہ بنا کہ قید کیا گیا۔جب پولیس کے اہلکار آپ کو گرفتا ر کرنے کے لئے آئے تو آپ نے کسی قسم کی گھبراہٹ کا اظہار نہ فرمایا اور انہیں پور سے گھر کی تلاشی لینے دی۔تلاشی کے دوران ایک معجزہ رونما ہوا۔آپ کی اچکن دیوار کے ساتھ لٹک رہی تھی اس کی جیب میں ایک ضروری جماعتی کاغذ تھا۔پولیس کے اہلکار نے اس کی ایک جیب میں ہاتھ ڈالا وہ خالی تھی۔اُس نے دوسری جیب میں ہاتھ ڈالا لیکن وہ بھی خالی تھی اور حقیقتاً یہ ہوا تھا کہ غیبی ہاتھ نے اچکن کو گھما دیا اور اس نے دوبارہ غلطی سے پہلے والی جیب میں ہی ہاتھ ڈالا۔یہ واقعہ آپ نے خود مجھے بتایا۔آپ یکم اپریل ۱۹۵۳ ۴ تا ۲۸ مئی ۱۹۵۳ء قید میں رہے۔اس دوران آپ کو پیش کی تکلیف ہو گئی۔آپ نے جیل کے ایک ملازم سے کہا کہ مجھے پو دینے کے پتے لا دیا کرو۔وہ چند دن تک پتے داتا رہا اور آپ انہیں استعمال فرماتے کر ہے۔خدا تعالٰی نے آپ کو ان پودینے کے پتوں سے ہی پیچش سے شفا عطا فرمائی۔سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کی وفات ۱۲۰ اپریل تشبیہ کو ہوئی جبکہ آپ کو