حضرت مرزا ناصر احمد — Page 29
۲۹ تعلیم الاسلام کا لج کے پرنسپل مئی ۱۹۲۳ء سے لے کہ نومبر ۱۹۶۵ تک اکیس سال ( تا انتخاب خلافت) آپ ے طور پرتیں تعلیم الاسلام کالج ابلا تفریق مذہب و قوم نوجوانوں کی بے مثال رہنمائی فرمائی۔سالہا سال پر محیط اس لمبے عرصے میں ہزارہا طالب علموں کے لاتعداد واقعات جو کہ محبت شفقت اور حسین و احسان کی لانہ وال داستانیں اپنے اندر لئے ہوئے ہیں ، ان سب کی جڑیں مضمر سوچ اور جذبے کا اندازہ حضور کے ۱۹۳۳ ء میں پہلی کالج یونین کے منتخب ممبران کی تقریب سے خطاب میں بیان کردہ اس دلچسپ و منفرد نکتے سے لگایا جا سکتا ہے۔آپ نے حسن اور عشق " کے موضوع پر خطاب کے دوران فرمایا :- ہر طالبعلم میں خدا تعالیٰ نے ایک مخفی حسن کسی نہ کسی کمال یا استعداد کے لحاظ سے ودیعت کیا ہوا ہوتا ہے حقیقی استاد وہ ہے جو اس حسن پر عاشق ہو کہ ایک والہانہ جستجو اور سرگرمی کے ساتھ اس مخفی حسن کو اجا گر کرے اور پھر اس کی نشو و نما کا سامان کر سے کہ اور پھر آپ نے خود اپنی ساری عمر انسانوں میں محفی اس حسن کی تلاش میں اور اس کی نشود نما میں گزار دی۔ء میں ملکی تقسیم کے بعد تعلیم الاسلام کا لج قادیان سے لاہور منتقل ہو گیا۔جلد ہی کالج نے یہاں بھی اپنے قدم جمالئے اور لاہور کے تمام کالجوں میں ایک نمایاں مقام حاصل کر لیا۔