حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 162 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 162

۱۵۴ آپ خاموشی سے باہر چلے جاتے۔مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ میرا ذہن اس بات کیلئے تیار نہ ہو رہا تھا۔مجھے گھبراہٹ تھی کہ اتنی جلدی کیوں ؟ لیکن پھر یاد ہے کہ جب آپ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ا کر مجھ سے دوبارہ پوچھتے تو آخر میں نے کہا۔اچھا۔بعد میں جس بات کا میرے دل پر اثر ہوا وہ یہ تھی کہ اگرچہ اس موقع پر وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہ تھی لیکن جو ذہنی کیفیت اس وقت میری تھی اس کے پیش نظر آپ بڑے تحمل اور صبر سے میرے انکار کرنے پر واپس چلے جاتے اور دوسری کوئی بات نہ کہتے۔اسلام آباد سے واپسی کا سفر میرے لئے زندگی کا کہ بناک ترین سفر تھا۔میرے ساتھ مورمین صاحبزادی نامرہ بیگم صاحبہ آئیں۔اگلی سیٹ پر عز نیم میاں اس احمد صاحب اور رحمت صاحب ڈرائیور تھے۔میرے ساتھ اسی موٹر میں جب چند دن پہلے ہم اسلام آباد آئے تو حضور تشریف فرما تھے اور اب وہ میرے ساتھ نہ تھے۔ہمیں بے چین ہو ہو کہ اس دن کو دیکھنے کی کوشش کرتی جس میں آپ کا جنازہ رکھا ہوا تھا۔گیارہ ، ساڑھے گیارہ بجے ہم ربوہ پہنچ گئے۔ہمارے کرے میں ہر چیز ویسے ہی پڑی تھی جیسے ہم چھوڑ کر گئے تھے لیکن پھر بھی سب کچھ کتنا بدل گیا تھا۔حضور کا جنازہ حضور کے دفتر کے بالمقابل ایک کمرے میں رکھا گیا اور پھر پڑے ہال میں رکھا گیا۔میں کبھی آپ کے پاس جاکر بیٹھتی اور کبھی اپنے کمرے میں آجاتی۔دس جون کو جب آپ کا جنازہ ابھی ہاں کرے میں ہی رکھا ہوا تھا میں اپنے کمرے کے ساتھ والے کمرے میں بیٹھی تھی۔مجھے نیند نہ آتی تھی لیکن چند لوں کے