حضرت مرزا ناصر احمد — Page 160
1 ۱۵۲ " اچھا۔پھر ٹھیک ہے" شام کے وقت تقریباً پانچ سے چھ بجے کے درمیان حضور لیے لیے دعا میں مشغول رہے۔میں کسی کام کی غرض سے دو بار پلنگ کے قریب آئی تو اشار سے سے مجھے بات کرنے سے منع فرمایا۔بیماری میں زیادہ بات چیت سے حضور کو منع کیا گیا تھا۔اگر آپ کو میں کبھی بات کرنے سے منع کرتی تو آپ مسکراتے ہوئے بچوں کی طرح منہ پر انگلی رکھ لیتے اور خاموش ہو جاتے۔اس روز شام کے وقت آپ کافی دیر تک ڈاکٹر نوری صاحب اور ڈاکٹر مبشر صاحب سے باتیں کرتے رہے۔مجھے خیال آیا کہ آپ کہیں تھک نہ جائیں۔اس لئے میں نے ڈاکٹر مبشر صاحب سے آہستہ سے کہا کہ بہت دیر ہو گئی ہے۔آپ کو باتیں کرتے ہوئے۔پوچھنے لگے کیا کہہ رہی ہیں ؟ جب انہوں نے بتا یا تو فرمایا :- " آج تو میرے چلنے کا دن تھا ( ڈاکٹری SCHEDULE کے مطابق اس دن انہیں چند قدم کمرے میں چلانے کے لئے کہا گیا تھا مجھے باتیں کرنے دو گے قریباً پونے بارہ بجے آپ نے عزیزہ شاعری اور عزیزہ نصرت کو رخصت کیا کیونکہ انہوں نے صبح ربوہ جانا تھا۔ان کے جانے کے بعد پھر آپ مجھ سے باتیں کرتے رہے۔اب آواز میں کمزوری آتی جا رہی تھی۔میں نے سمجھا شاید نیند آنے کی وجہ سے آپ کی آواز مدھم ہو رہی ہے۔میرا ہاتھ پکڑ کر آپ اپنے سینہ پر کچھ دیر ملتے رہے۔شاید تکلیف کا کوئی احساس ہو رہا تھا۔بارہ بجنے میں شاید دو چانہ ہی منٹ ہوں گے کہ آپ کر روٹ لیتے ہوئے اور بات کرتے ہوئے اچانک رک