حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 159 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 159

۱۵۱ تھی اور ڈاکٹری ہدایت کے مطابق کچھ میٹھے کی ضرورت تھی۔میں نے آپ کو چاکلیٹ دیا جو آپ نے شوق سے کھایا۔اپنے ساتھ مجھے بھی کھلاتے رہے۔ربوہ کو حضور اس علالت میں برابر بہت یاد کرتے رہے۔دو تین بار مجھے سے فرمایا۔" ہم ربوہ کب جائیں گے ؟ آخری روز بھی راہ کو یاد فرماتے رہے اور پھر شکار کا ذکر بھی فرمایا۔آخری روز دوپہر کے کھانے کے وقت آپ نے مجھ سے کافی باتیں کیں۔آپ کے چہرے کا تاثر اور لہجہ مجھے کبھی نہیں بھول سکتا۔جب آپ نے مجھ سے یہ فرمایا کہ " اس بیماری کے پہلے چار دن میں نے اللہ تعالیٰ سے بہت باتیں کیں " پھر فرمایا :- دیکھونا ! ۳ ، سال اس نے مجھ پر اتنے انعامات اور اتنے فضل کئے میں نے اس سے کہا کہ اگر اب تو مجھے بلانا چاہتا ہے تو میں راضی ہوں لیکن میں نے کچھ کام ایسے شروع کئے ہوئے ہیں جن کی تکمیل کے لئے مجھے دس پندرہ سال چاہیں۔یہ بات سُن کر میرے دل میں سخت رنج پیدا ہوا۔میں نے اپنے آپ کو روکنا تو بہت چاہا لیکن رہا نہ گیا۔آخر میں نے کہا۔" آپ کو میرا خیال نہیں آیا۔" فرمایا :- کیوں نہیں آیا تمہارا خیال۔میں تمہیں بھی اپنے پاس بلا لوں گا۔تم نے یہاں رہ کر کیا کرنا ہے " یہ سن کر میں ہنس پڑی اور کہا : -