حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 148 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 148

۱۴۰ میں نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ حضور نے اپنی ہر استعداد کو خدا تعالے کے فضل کے ساتھ انتہا تک پہنچایا۔اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اس حد تک عمل فرمایا کہ آپ کے جسم اور روح قول اور فعل کا ذرہ ذرہ اور آپ کی زندگی کا ہر ہر لمحہ اس بات پر گواہی دنیا ہے کہ آپ نے اپنی تمام عمر خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں کی پیری کرتے ہوئے گزاری۔میں پہنچ کہتی ہوں کہ چوبیس گھنٹوں میں سے حضور کے ساتھ گزارا ہوا ایک ایک لمحہ اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ آپ کی زندگی کا ہر لمحہ خدا اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق گزر رہا ہے۔ایک عام انسان کے اہل خانہ سے مراد تو وہی افراد کئے جاتے ہیں جن سے اُن کا جسمانی رشتہ ہونا ہے لیکن خلیفہ وقت کے اہل خانہ میں اس کی روحانی اولاد بھی شامل ہوتی ہے۔افراد جماعت کے ساتھ حضور کو جو بے انتہا محبت اور پیار تھا۔اس کا ایک وافر حصہ تو میں نے بھی شادی سے پہلے حاصل کیا ہوا تھا۔لیکن اس کی اصل کیفیت کا اندازہ مجھے شادی کے بعد ہی ہوا۔اور اس محبت اور پیار کا مکمل اظہار کرنے سے میرا قلم قاصر ہے اور اظہار کرنے کی چنداں ضرورت بھی نہیں کیونکہ ہر مخلص فرد جماعت کا دل خود ہی اس بات کو جانتا ہے کہ حضور نے اُس سے کس قدر محبت فرمائی۔افراد جماعت کو جو دلی محبت اور پیار حضور سے تھا۔آپ کو اس کا گہرا احساس تھا اور اس احساس سے لذت بھی محسوس فرماتے تھے۔بارہا مجھ سے