حضرت مرزا ناصر احمد — Page 146
۱۳۸ پیش کر کے ، اپنے مال واسباب شا کہ تہی دست ہو کہ یہاں پہنچتے اور آپ اپنے سب غموں کو دل میں چھپا کر مسکراتے ہوئے چہرہ کے ساتھ انہیں ملتے اور اُن کے چہروں پر بھی مسکراہٹیں بکھیر دیتے۔سوچتی ہوں وہ تو کسی دوسرے انسان کا معمولی سا دکھ بھی برداشت نہ کر سکتے تھے وہ کیسے اپنی پیاری جماعت کو پہنچائے جانے والے اس عظیم دکھ کو برداشت کرتے ہوں گے۔ایک دفعہ میں کسی معمولی سی بات پر روپڑی۔جب آپ نے میری آنکھوں میں آنسو دیکھے تو شدید کرب آپ کے چہرے پر آگیا اور فرمانے لگے میں نے تمھیں لکھ دیا میں بہت بڑا انسان ہوں۔آپ کے چہرے کا کرب دیکھ کرا اور آپ کی بات شن کر میں گھبرا گئی اور پھر آپ کا دکھ میری برداشت سے باہر ہونے لگا۔آج بھی سوچتی ہوں تو تکلیف ہوتی ہے۔پھر حضرت نواب منصورہ بیگم صاحبہ نور اللہ مرقدھا کی وفات پر جس عظیم حوصلے اور برداشت کا آپ نے ثبوت دیا وہ ایک عام انسان کے بیس کی بات نھی۔اُس وقت جماعت دو طرح سے دُکھ محسوس کر رہی تھی۔ایک تو ان کی وفات کا اور دوسرا اس بات پر سر احمدی کا دل تڑپ رہا تھا کہ ہمارے محبوب امام اس وقت تکلیف میں ہیں۔لیکن جب آپ اسی روز نماز جمعہ پڑھانے کے لئے مسجد میں تشریف لائے اور کمال صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطبہ ارشاد فرمایا تو ٹوٹے ہوئے دلوں کو سہارا مل گیا اور خدا کی رضا پر راضی ہونے کا حوصلہ۔میں نے جب اس بات کا ذکر آپ سے کیا تو آپ فرمانے لگے کہ ہاں اگر میں اُس وقت جماعت کو سہارا نہ دیتا تو اور کون دیتا۔انہوں نے جماعت کی ہمت بندھانے