حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 145 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 145

! 1۔۱۳۷ ساتھ دوسروں سے ملیں۔چنانچہ جب بھی ڈاکٹر ز نے انہیں دیکھنے کے لئے آنا ہوتا تو ان کے آنے سے پہلے آپ بال درست کرواتے اور خوشبو وغیرہ لگواتے اور پھر انتہائی بشاشت اور حو صلے کے ساتھ اُن سے باتیں فرماتے۔ہم اگر ذرا سا بھی بیمار پڑ جائیں تو یہی محسوس کرتے ہیں جیسے ساری دُنیا سے زیادہ ہم ہی تکلیف میں ہیں۔لیکن حضور میں یہ بات نہ تھی۔آپ کو اپنی شدید بیماری میں بھی دوسروں کا زیادہ خیال رہتا۔اس بیماری کے دوران بھی آپ بار بار گھر والوں سے میرے متعلق فرماتے کہ ان کے کھانے کا خیال رکھو اور یہ کہ یہ رات بھر جاگتی ہیں اس لئے دن کے وقت انہیں سلا دو۔اتنا زیادہ خیال فرماتے کہ میں اکثر شرمندہ ہو جاتی اور پھر آخری دوپہر کو کھانے کے وقت مجھے سے فرمانے لگے کہ تمہیں نیند کی دوائی دے کر اگلے چوبیس گھنٹوں کے لئے سالا دینا چاہیئے۔اور اس سے قریباً ۱۲ گھنٹے بعد آپ کی وفات ہو گئی۔“ اس مرد آہن نے اپنی ذات کو جماعت کے مفاد کے لئے بالکل پس گیشت ڈال دیا تھا۔اپنا رغم بھول کر ہمیشہ افراد جماعت کا حوصلہ اور تہمت بندھائی۔مصائب میں خود کراکر انہیں مسکرانا سکھا دیا۔فرماتے تھے جب حضرت مصلح موعود ( اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو) کی وفات ہوئی اُس وقت افراد جماعت کی کمر صدمے سے ٹوٹی ہوئی تھی۔اس وقت میں نے انہیں دلاسہ دنیا تھا۔چنانچہ میں ایک ایک احمدی کا خط خود اپنے ہاتھ سے کھولتا، پڑھنا اور پھر اسے تسلی کا جواب دیا۔پھر ہ کا صبر آزما دور آیا۔افراد جماعت اپنی جانوں کے نذرانے