حضرت مرزا ناصر احمد — Page 144
! پر نماز ادا فرمائی۔میں نے انہیں اوپر نیچے بچھانے کی بجائے اس طرح بجھایا کہ ان کا کچھ حصہ درمیان میں OVERLAP کر رہا تھا اور باقی حصہ علیحدہ تھا۔میرا مقصدیہ تھا کہ ظاہراً بھی حضور کا وجود مبارک دونوں جاء نما نہوں پر آجائے میرا اپنا خیال تھا۔ویسے حضور نے بھی میرے اس طرح بچھانے پر کچھ نہ فرمایا۔آپ نے ہمیشہ مسکرانے کا سبق دیا اور اپنی ساری عمر حتی کہ زندگی کے آخری لمحات بھی مسکراتے ہوئے گزارے۔آخری علالت میں سارا وقت خود بھی مسکراتے رہے اور دوسروں کو بھی مسکرانے کا درس دیتے رہے۔ایک روز میں پاس بیٹھی بازو دبا رہی تھی۔میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔میں سمجھی تھی کہ آپ سورہے ہیں۔اتنے میں آپ نے آنکھیں کھولیں۔میری طرف دیکھا تو مسکراتے ہوئے فرمانے لگے تمہاری آنکھوں میں آنسو کیوں ہیں۔میری طرف دیکھو ئیں کیسے سکرار ہا ہوں۔اگر تم روٹی تو باہر جو بیٹھے ہیں انہیں کون نیستی دے گا۔تین چار مرتبہ یہ بھی فرمایا کہ اس بیماری کے شروع دنوں میں مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ کسی بھی لمحہ میری وفات ہو سکتی ہے لیکن میں مسکراتا رہا ، اتنا عظیم حوصلہ تھا، اتنی زبر دست قوت برداشت تھی کہ باوجود اس کے کہ طبیتی طور پر ان کی علالت کی شدت کو جانتی تھی ہیں بھی یہ دھو کہ کھا جاتی تھی کہ جیسے انہیں کوئی تکلیف ہی نہیں۔باہر سے جو ڈاکٹر تشریف لائے انہوں نے بھی یہی کہا کہ میں نے ایسا عظیم حوصلے والا انسان نہیں دیکھا۔بیماری کی حالت میں بھی انہیں یہ پسند نہ تھا کہ وہ افسردہ چہرہ کے