حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 13 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 13

بے لوث اور پر جوش جذبات کے ساتھ ڈیوٹی دیتے رہے۔آپنے فرمایا : ہم نے بچپن کی عمریں یہ بھی نہیں سوچا تھا کہ ہماری چند گھنٹے کی ڈیوٹیاں لگیں گی۔یعنی یہ کہا جائے گا کہ تم پانچ گھنٹے کام کر لو اور باقی وقت تم آزاد ہو۔ہم صبح سویہ سے جاتے تھے اور رات کو دس بجے گیارہ بجے واپس آتے تھے۔وہ فضا ہی ایسی تھی اور ساروں میں ہی خدمت کا جذبہ تھا۔کوئی بھی اس جذبہ سے خالی نہیں تھا۔" الفضل ۱۴ فروری ۱۹۶۹ء نو عمری سے ہی آپ کے جذبات کے دھارے کا رخ خدمت اسلام کی طرف تھا۔اپنی 14 ء کی ڈائری میں جبکہ آپکی عمر قریبیا اٹھارہ برس ہوگی ایک جگہ آپ تحریمیہ فرماتے ہیں : - اپنی ہر چیز کو قربان کردوں گا مگر اسلام کی عزت دنیا میں قائم کر کے چھوڑوں گا " پھر اسی ڈائری میں ایک جگہ آپ یہ شعر تحریہ فرماتے ہیں : یاد خدامیں لگ جا تو دید بتاں طلب نہ کر محد خیال یار ہو۔ساتی و کے طلب نہ کرہ ) مرزا ناصر احمد) ۱۹۲۷ء میں ہی ریزر و فنڈ تحریک میں آپ نے بہت محنت سے چندہ جمع کیا چند سے کا حساب بڑی محنت سے اپنی ڈائری میں لکھا ہوا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی