حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 12 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 12

۱۲ کہ تم بہت اقصی میں جا کہ نما نہ پڑھ آیا کرو۔ورلی سیڑھیاں یعنی بیت مبارک کی وہ سیڑھیاں جو اُس دروازہ کے ساتھ ہیں جو دارسیح کے اندر جانے والا دروازہ ہے وہاں سے میں اتر تا اور وہ گلی بڑی اندھیری تھی۔اب تو شاید وہاں بجلی لگ گئی ہو۔اس زمانہ میں بجلی نہیں تھی۔ایک دن میں نیچے اترا نما نہ کے لئے تو عین اُس وقت مدرسہ احمدیہ کے طلباء کی لائن نمازہ کے لئے جا رہی تھی اور اندھیرا تھا۔خیر میں لائن میں شامل ہو گیا۔لیکن اس اندھیرے میں کچھ پتہ نہیں لگ رہا تھا۔میرا پاؤں ایک طالب علم کے سلیپر پر لگا اور وہ سمجھا کہ کوئی لڑکا اس سے شرارت کر رہا ہے وہ پیچھے مُڑا اور ایک چیڑ مجھے لگادی۔اس کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ کسے میں چیڑ لگا رہا ہوں اور کیوں لگا رہا ہوں۔مجھے خیال آیا کہ اگر میں اس کے سامنے ہو گیا تو اس کو بہر حال شرمندگی اٹھانی پڑے گی اس خیال سے میں ایک طرف کھڑا ہو گیا اور جب پندرہ ہیں نیچے وہاں سے گزر گئے تب میں دوبارہ اس لائن میں شامل ہوگیا تا کہ اس کو شرمندگی نہ اٹھاتی پڑ سے " بچپن کی عمر اور علم و حکمت سے بھرا ہوا یہ واقعہ آپ کی پاکیزہ نظرت کی گہری سعادت۔پر بھر پور روشنی ڈالتا ہے اور پڑھنے وال کبھی فطری نیکی کے اس پیار سے واقعہ سے پیار کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔بچپن اور نوعمر کی دلچیان در معرفی تے پر جانوں کی خدمت کے لئے مہمانوں