حضرت مرزا ناصر احمد — Page 138
یہ سرد کی۔پہلے سرد کھولنا پھر آہستہ آہستہ اس میں گرم ملانا۔احتیاط کرنا میں ایک بار اپنا ہاتھ جلا چکا ہوں۔پہلا دن تھا کچھ بول تو نہ سکی البتہ دل میں خیال آیا کہ یہ بھی بھلا کوئی بنانے والی بات ہے۔اس کے بعد غلطی سے بھول کر میں نے دوبار اپنا ہا تھ جلایا۔اسلام آباد میں ایک روز شام کی چائے پر انہیں چائے کے چھچھے پر عجیب ذائقہ محسوس ہوا۔مجھ سے فرمانے لگے منصورہ بیگم میر ہے برتن خود دھویا کرتی تھیں۔تم بھی میرے برتن خود دھویا کرو۔اگلے کھانے پڑ کھانے سے پہلے میں اس غرض سے اپنے کمرے سے باہر آئی کہ ان کے لئے برتن خود دوبارہ دھو کر میٹر پر لگا دوں۔میں لگانے آئی تو عزیز چسبی نے کہا کہ انہوں نے خود دھو کر لگا دیئے ہیں۔میں نے شرم میں پھر نہ دھوئے ، اس کے بعد پھر ان کی بیماری میں تو کسی اور چیز کی ہوش ہی نہ تھی۔اس بات کی بھی بہت احتیاط رکھنے اور مجھ سے بھی رکھواتے کہ پڑے ٹھیک طرح سے کھینچے ہوں۔اور یہ کہ کوئی دروازہ، اور اس کی کل کھلی نہ ہوں۔سونے سے قبل دروازوں کی گلیں خود چیک کرتے۔۔سے دروازوں۔۔ایک روز صبح ناشتہ کی میز پر بیٹھے تھے۔میں ان کے لئے اور اپنے لئے چائے کی پیالیاں بنا کہ لائی۔ایک پیالی ان کے لئے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی۔دوسرے ہاتھ میں اپنے لئے چائے پکڑی ہوئی تھی۔فرمانے لگے اس طرح تم سے چائے گر کر مجھے جلا سکتی ہے۔چنانچہ پھر میں نے احتیاط برتنی شروع کر دی۔انھیں چائے دے کر پھر اپنی