حضرت مرزا ناصر احمد — Page 130
۱۲۴ خراب کرتا ہے۔ایک مرتبہ حضور کمرے میں تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ آج ثاقب صاحب آئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ میری والدہ نے پوچھا ہے حضور آپ کا شادی کرنے کا جو مقصد تھا وہ پورا ہو گیا ہے میں نے ہنستے ہوئے کہا ثا قب صاحب کا اپنا دل کر رہا ہو گا پوچھنے کو اور کہہ اپنی والدہ کا دیا۔حضور نے مجھے میری اس غلطی پر ٹو کا اور بدظنی سے منع فرمایا۔خدا تعالیٰ کی صفات کا جلوہ اس وقت اور بھی زیادہ ابھر کر ہمارے سامنے آتا ہے جب ہم اس پر گہری نظر سے غور کرنا شروع کر دیتے ہیں۔اور پھر یہ جلوہ پھیلتا ہی چلا جاتا ہے اور دُور دُور تک اس کی کوئی انتہا نظر نہیں آتی۔اس وقت دل سے بے اختیار خدا تعالیٰ کی حمد نکلتی ہے۔اور یہی وہ تعریف ہے جو معرفت الہی کے بعد کی جاتی ہے اور یہی وہ حمد ہے جو کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک زیادہ مقبول ہے۔ورنہ طوطے کی طرح صرف زبان سے اقرار کرنا اور دماغی طور پر اس حقیقت کے قائل نہ ہونا انسانیت کے اُس اعلیٰ مرتبہ کے خلاف ہے جو کہ خدا نے اُسے اشرف المخلوقات بنا کر عطا فرما با حضور کے ساتھ میں نے جو چند سفر کئے اُن میں میں نے یہی دیکھا کہ آپ اپنے سفر کا بھی ایک لمحہ ضائع نہ فرماتے بلکہ راستے میں موجود ہر چیز کو نوٹ فرماتے اور میری توجہ بھی اس طرف مبذول کروانے مجھے یاد ہے کہ اگر چہ میں ان راستوں سے پہلی بار گزر رہی ہوتی تھی لیکن میں اُن پر لا پرواہی سے نظر ڈالتی۔اس کے ٹیکس حضور شاید بیسیوں مرتبہ ان جگہوں سے سفر فرما چکے تھے لیکن وہ انہیں اتنے غورا در شوق سے دیکھتے کہ مجھے حیرت ہوتی۔میں شادی سے پہلے مری صرف ایک بار گئی تھی میں نظاروں