حضرت مرزا ناصر احمد — Page 127
۱۲۱ ہمارے آیا کو چائے بہت زیادہ پینے کی عادت تھی اور اس وجہ سے ہمارے گھر میں سب ہی زیادہ چائے پیتے تھے۔جنور کو اس بات کا علم تھا۔اس لئے اکثر جب میں چائے پی رہی ہوتی اور اگر کوئی عزیز بھی پاس ہوتا تو آپ ان سے مسکراتے ہوئے کہتے۔ان کے گھر میں عادت ہے کہ ہر گھنٹے بعد چائے کی ایک پیالی پیتے ہیں۔آپ خود کم چائے پیتے تھے۔دو کپ صبح ناشتے پر اور دوشام کی چائے پر۔آپ نے مجھے سے کہا تو نہیں لیکن شاید آپ چاہتے تھے کہ مکی بھی کم چائے پیوں۔اسلام آباد میں ایک روز عزیزہ حسبی نے یہ جاننے کے بعد کہ مجھے شادی سے پہلے رات کے کھانے کے بعد چائے پینے کی عادی تھی تو انہوں نے خود ہی خادمہ سے کہ کہ کھانے کے فورا بعد میز پر چائے بھجوادی۔انہوں نے جب چائے دیکھی تو فرمایا۔"اچھا تو پھر آپ اپنی پرانی عادتوں پر واپس آرہی ہیں۔میں خاموش رہی۔آپ نے مجھے اپنے لئے چائے کا کپ بنانا بھی سکھایا۔آپ پیالی میں دودھ چائے سے پہلے ڈالتے تھے۔مجھے چونکہ دودھ پہلے ڈالنے کی عادت نہ تھی اس لئے اکثر ہی اندازہ غلط ہو جاتا اور کئی بار میں غلطی سے زیادہ دودھ ڈال دیتی۔آپ پوری بھری۔۔ہوئی پیالی بنواتے۔میں قہوہ ڈال رہی ہوتی تو فرماتے۔"اور " " اور " یہاں تک کہ پیالی کناروں تک بھر جاتی۔ایک مرتبہ شروع شروع میں میں نے حضور کو اپنے ہوسٹل میں رہائش کے زمانے کی باتوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہم فائنل ایٹر میں اکثر رات کو ایک ایک بجے مل کر تربوز کھایا کرتی تھیں۔تربوز و یسے بھی مجھے بہت پسند ہے۔حضور نے اُسے یادرکھا۔اکثر ذکر فرماتے کہ انہیں تو رات کو ایک بجے تربوز کھانے کی عادت