حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 126 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 126

۱۲۰ میں ناشتہ میز پر رکھنے کے بعد آپ کو جگاتی۔ایک روز مجھ سے فرمایا۔کہ مجھے تمہارے ہاتھ لگانے سے پتہ چل جاتا ہے کہ آج تمہارا موڈ کیسا ہے" ہمیشہ اپنے رب سے خیر کے ہی طالب رہے۔ایک روز آپ ظہر کی نماز پڑھانے کے لئے بیت المبارک جا رہے تھے میں نے کہا جلدی جائیں اور جلدی آئیں سخت بھوک لگی ہے کہ ہم دوپہر کا کھا ناظہر کی نماز کے بعد کھاتے تھے )۔فرمایا۔ایسے نہیں کہتے بلکہ کہتے ہیں۔خیر سے جائیں اور خیر سے آئیں " قرآنی دعا رب إنّي بِمَا اَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرِ فَقِيره بھی کثرت سے پڑھتے۔ایک روز فرمایا۔مجھے حضرت مصلح موعود کی لکھی ہوئی آئین کا یہ مصرح بہت پسندہ ہے۔8 اہی خیر ہی دیکھیں نگاہیں دشمن کے لئے بھی کبھی بد دعا نہ کی۔عشاء میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا :- ان لوگوں کے لئے بد دعا نہیں کرتی۔لطیف مزاح آپ کی شخصیت کا خاص حصہ تھا۔اکثرو بیشتر لطیف سراح فرماتے اور لطف اندوز ہوتے۔چھوٹی چھوٹی باتوں میں مزاح کا رنگ پیدا فرما دیتے اور اگر دوسرا آدمی اس مزاج کو سمجھ کر لوٹا دیتا تو اور بھی زیادہ لطف اندوز ہوتے۔ایک صبح ناشتے پر میں نے میز پر پڑے ہوئے سیر کے والے پیاز استعمال کئے۔مجھے دیکھا تو میری چائے کی پیالی کی طرف اشارہ کر کے سنجیدہ چہرہ کے ساتھ فرمایا۔" یہ چائے میں کیسے لگ رہے ہیں ہے میں نے اسی اندانہ میں آپ کی چائے کی پیالی کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ " ڈال کر بتاؤں آپ میرے اس جوابی مزاح پر بہت ہے۔