حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 125 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 125

١١٩ رکھانا کھانے کے لئے کن ہوٹلوں میں جاتی تھی ؟ میں نے کہا CHINESE (چینی ہوٹلوں میں) اور جب آپ کو یہ علم ہوا کہ مجھے چینی کھانا اور SOUP (سوپ ) پسند ہیں تو اسلام آباد جانے کے بعد آپ نے بغیر میرے کہے خود ہی پتا کر وایا کہ یہاں کون سا اچھا چینی ہوئی ہے اور اس سے میرے لئے کھانا منگوایا۔اپنی علالت میں بھی میری چھوٹی چھوٹی ضروریات کا بھی ایسے خیال رکھا کہ حیرت ہوتی ہے۔آپ نے شاید اس خیال سے کہ کہیں مجھے کوئی ضرورت پیش آئے اور میں تکلف میں رہوں۔ایک روز اپنی آخری علالت کے دوران مجھ سے فرمایا :۔بیوی اگر اپنے خاوند کے پیسوں میں سے اس کی اجازت کے بغیر خرچ کر سے تو وہ چوری نہیں ہوتی۔اور واقعہ میں نے اپنے پاس موجود ساری رقم صدقہ میں بھجوا دی تھی اور جب آپ نے مجھے یہ بات کہی اس وقت میرے پاس کوئی رقم نہ تھی۔دوسرے انسانوں کو سمجھنے کی خدا داد فراست رکھتے تھے۔اور بہت کچھ انسانوں کے چہروں سے پڑھ جاتے۔اکثر اس کا مجھ سے اظہار بھی فرمایا۔لیکن بہت ہی پردہ پوشی کرنے والی طبیعت تھی۔اس لئے باوجود علم ہونے کے دوسرے پر اس بات کا اظہار نہ ہونے دیتے کہ آپ اس کی کمزوری کو جانتے ہیں۔بارہا مجھ سے یہ فرمایا کہ مجھے سب پتہ چل جاتا ہے کہ تم کیا سوچ رہی ہو۔میں خاموش رہتی اور دل میں سوچتی کہ میں نے کون سی بری بات سوچی ہے جو کہ ہو کہ انہیں پتہ نہ چل جائے۔اس لئے جب مجھے یہ بات کہتے میں مطمئن رہتی۔