حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 122 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 122

114 حضور سے اپنی والپسی کے متعلق پوچھا۔فرمانے لگے آج جب مرضی واپس آنا لیکن سونا گھر آکر۔امتی بیمار تھیں آپ نے اُن کے لئے دوائیں بھجوائیں۔جب میں واپس آئی تو آپ آنکھیں بند کئے بستر پر لیٹے ہوئے تھے۔میں بھی کہ آپ سورہے ہیں اس لئے آہستہ آہستہ کمرے میں آئی۔آپ نے آنکھیں کھو لیں اور فرمایا کہ میں تمہارا انتظار کر رہا تھا۔اور پھر مجھ سے ساری باتیں پوچھتے رہے۔اگلے دن امنی کے سفر کے متعلق میں بالکل لا پرواہ تھی لیکن آپ کو ان کی بہت فکر تھی۔بار بار ذکر فرمایا۔میں نے کہا آپ دُعا کریں۔فرمانے لگے وہ تومیں پہلے ہی کر رہا ہوں۔اور پھر یہ بات باد کر کے تو میرا دل اور زیادہ بھر آنا ہے کہ آپ کس طرح دوسروں کی معمولی ترین تکلیف کو بھی کتنا زیادہ محسوس فرماتے تھے اور اپنی تکلیف کی بالکل پرواہ نہ کرتے خواہ وہ کتنی زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔آخری علالت میں جب آپ کے دل کا ایک بڑا حقہ حملہ کا شکار ہو چکا تھا، امی کا انگلینڈ سے حضور کی طبیعت پوچھنے کے لئے فون آیا یجب میں اُن سے بات کر کے کمرے میں آئی تو آپ نے مجھ سے امتی کے متعلق پوچھا میں نے کہا کہ اُن کے Eco میں تھوڑا سا ECG آپ فوراً پریشان ہو کر مجھ سے پھر پوچھنے لگے " امتی اپنی بیماری کاشن کر کہیں گھیرا تو نہیں گئیں ، میں سہنس پڑی اور عرض کی کہ انہیں تو اپنی رتی بھر بھی HEART DAMAGE ہے۔پرواہ نہیں وہ تو بار بار مجھے آپ کا خیال رکھنے کی تاکید کر رہی تھیں۔ہر طرح سے میری دلداری فرماتے ہماری شادی کے چند دن بعد میرے بڑے بھائی نصیر دل کی تکلیف سے کافی بیمار ہو گئے۔آپ کو علم ہوا تو عزیزیم میاں