حضرت مرزا ناصر احمد — Page 142
۱۳۴ کھانے کے لئے خاص تاکید کی اور فرمایا" یہ کہیں ہمارہ نہ پڑ جائیں۔ان کے کھانے کا خاص خیال رکھنا۔“ مئی ۱۹۸۲ء کے شروع میں آپ پیش سے بیمار ہو گئے۔ساتھ ہی بخارہ بھی تھا۔گرمیوں کے دن تھے لیکن رات کو کمرہ ٹھنڈا ہونے کے باعث آپ اپنا گرم استعمال فرماتے تھے۔مجھے آپ نے ایک ہلکا خوبصورت کمبل اوڑھنے کے لئے دیا۔جب آپ کو بخار ہوا تو آپ کو سردی محسوس ہوئی۔میں نے اپنا کمیل آپ کو دے دیا اور آپ کی چادر خود لے لی۔آپ نے چند دن استعمال فرمایا اور آپ کو وہ بہت پسند آیا اور فرمایا یہ یہ بہت اچھا ہے " میں نے آپ کی پسند کے پیش نظر کہا کہ آپ یہی استعمال کرلیا کریں۔فرمایا۔ٹھیک ہے اور تم میرا دمعسہ لے لو۔پھر خیال آیا کہ کہیں مجھے اس میں ٹھنڈ نہ لگے۔ایک نسبتاً موٹی دلائی مجھے لا کر دیتے میں نے ہوئے فرمایا :" اگر سردی لگے تو یہ لے لینا " شاید میں اصل روح اس واقعہ کی بیان نہ کر سکوں لیکن آپ جس طرح فکر سے میرے لئے دلائی وغیرہ کا بندوبست کر رہے تھے اسے میں ہی محسوس کر سکتی ہوں۔دلائی کے ذکر میں ہی آپ کی حساسیت کا ایک اور واقعہ یاد آیا۔اسلام آبا دمیں ایک روز میں نے بغیر کسی مقصد کے ویسے ہی اپنی دلائی کے بارہ میں کہ دیا کہ یہ با لکل چوکور ہے " آپ نے سمجھا شاید مجھے پسند نہیں آئی۔فرمایا " تم میری دلائی لے لو اور یہ مجھے دے دویا میں شرمندہ ہو گئی اور کہا " نہیں " آپ نے پھر فرمایا۔کہ بدل لو لیکن میں نے آپ کی دلائی نہ لی۔آپ کرے میں ڈاک دیکھ رہے ہوتے تو میں پاس بیٹھ جاتی اور کئی بار ایسا کرتی