حضرت مرزا بشیر احمد ؓ

by Other Authors

Page 3 of 30

حضرت مرزا بشیر احمد ؓ — Page 3

ماه رمضان 1311ھ بمطابق 20 مارچ 1894ء کو چاند گرہن اور 28 رمضان 1311ھ بمطابق 6 اپریل 1894ء کو سورج گرہن ہوا۔بچین حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی ہمشیرہ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ فرماتی ہیں: ”میری ہوش میں پہلا نظارہ منجھلے بھائی کے بچپن کا مجھے بہت صاف یاد ہے۔وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کہیں باہر سے تشریف لائے تھے۔گھر میں خوشی کی لہر سی دوڑ گئی۔آپ آکر بیٹھے، میں پاس بیٹھ گئی اور سب مع حضرت اماں جان بھی بیٹھے تھے کہ ایک فراخ سینہ، چوڑے منہ والا ہنس کھلڑ کا ملی ٹوپی پہنے بے حد خوشی کے اظہار کیلئے حضرت مسیح موعود کے سامنے کھڑا ہو کرا چھلنے کودنے لگا۔یہ میرے پیارے بھائی تھے۔حضرت اقدس مسکرا رہے ہیں۔دیکھ کر خوش ہورہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ ” جاٹ ہے جات بہت کم بولتے اور کم ہی بے تکلف ہو کر سامنے آتے تھے۔ویسے طبیعت میں لطیف مزاح بچپن سے لے کر اب تک تھا۔ایسی بات کرتے چپکے سے کہ سب ہنس پڑتے اور خود وہی سادہ سامنہ بنائے ہوتے۔حضرت اماں جان فرماتی تھیں کہ اول تو بچوں کو کبھی میں نے مارا نہیں ویسے ہی کسی شوخی پر اگر دھمکایا بھی تو میر ابشری ( یعنی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب) ایسی بات کرتا کہ مجھے ہنسی آجاتی اور غصہ دکھانے کی نوبت بھی نہ آنے پاتی۔ایک دفعہ شاید کپڑے بھگو لینے پر ہاتھ اٹھا کر دھمکی دی تو بہت گھبرا کر کہنے لگے ” نہ اماں کہیں چوڑیاں نہ ٹوٹ جائیں“ اور حضرت اماں جان 3