حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ

by Other Authors

Page 5 of 14

حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ — Page 5

7 6 ملازمت جب آپ کی عمر 21 برس ہوئی تو آپ کی والدہ نے یہ دیکھ کر کہ ذریعہ معاش کوئی نہیں ، آپ کو آپ کے ماموں کے پاس لاہور بھیج دیا۔جہاں آپ نے ایک سال تک تعلیم حاصل کی اور پھر آپ کے ماموں کی ہی وساطت سے آپ کو ملازمت مل گئی۔سب سے پہلے آپ بحیثیت اوورسیئر امرتسر میں رہے بعد میں آپ سٹھیالی اور کاہنوان میں بھی قیام پذیر رہے اور کچھ وقت آپ کو قادیان میں رہنے کا بھی موقعہ نصیب ہوا۔جن دنوں آپ کا قیام قادیان میں تھا اس وقت آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات بھی کی۔آپ اُن دنوں براہین احمدیہ لکھ رہے تھے۔اس زمانہ میں وفات وحیات مسیح کا کوئی اختلاف نہ تھا۔ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت میر ناصر نواب صاحب سے جب کہ آپ قادیان میں اکیلے رہا کرتے تھے اپنے اہل وعیال کو بھی ساتھ رکھنے کی تحریک فرمائی۔خدا کا کرنا یوں ہوا کہ جب آپ کے بیوی بچے قادیان ہی میں مقیم تھے تو آپ کا تبادلہ قادیان سے لاہور ہو گیا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اپنے اہل وعیال کو یہاں ہی چھوڑ جائیں جب تک وہاں کوئی رہائش کا انتظام نہ ہو جائے۔تو اس تجویز پر حضرت میر صاحب اپنے اہل و عیال کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر چھوڑ گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں حضرت میر صاحب کی بے حد عزت تھی۔حضرت میر صاحب نے فرمایا کہ مجھے اس بات کا علم ہوا کہ جتنے دن میرے اہل وعیال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر پر رہے حضوڑ اس گھر میں داخل نہ ہوئے بلکہ دوسرے گھر میں قیام پذیر رہے۔چند دنوں میں رہائش کا انتظام ہو گیا۔اور آپ اپنے اہل وعیال کو لے کر لا ہور چلے گئے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے براہین احمدیہ شائع فرمائی اور حضرت میر صاحب کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے براہین احمدیہ خرید کی اور مطالعہ کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نکاح اسی اثناء میں حضرت میر صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بعض امور کے متعلق دعا کے لئے لکھا۔اُن میں سے ایک امر یہ بھی تھا کہ دعا کریں اللہ تعالیٰ مجھے نیک صالح داماد عطا کرے۔اس دعائیہ خط کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو لکھا وہ حضرت میر صاحب کی تحریر میں ہی پیش کرتا ہوں۔آپ تحریر فرماتے ہیں: میں اور نکاح کرنا چاہتا ہوں۔مجھے اللہ تعالیٰ نے الہام فرمایا ہے۔کہ جیسا تمہارا عمدہ خاندان ہے۔ایسا ہی تم کو سادات کے عالیشان خاندان میں سے زوجہ عطا کروں گا۔اور اس نکاح میں برکت ہوگی۔اور اس کا سب سامان میں خود بہم پہنچاؤں گا۔تمہیں کچھ تکلیف نہ ہوگی۔یہ آپ کے خط کا خلاصہ ہے۔بلفظ یاد نہیں۔اور یہ بھی لکھا کہ آپ مجھ پر نیک ظنی کر کے اپنی لڑکی کا نکاح مجھ سے کر دیں۔اور تا تصفیہ اس امر کو خفی رکھیں اور رد کرنے میں جلدی نہ کریں۔مجھ کو یہ نہیں لکھا تھا کہ تمہارے ہاں یا دلی میں نکاح ہونے کا مجھے الہام ہوا ہے۔لیکن بعض اپنے احباب کو اس سے بھی مطلع فرمایا کہ دلی میں سادات کے خاندان میں میرا نکاح ہوگا۔پہلے تو میں نے کچھ تامل کیا کیونکہ مرزا صاحب کی عمر زیادہ تھی اور بیوی بچہ موجود تھے اور ہماری قوم کے بھی نہ تھے۔مگر پھر حضرت مرزا صاحب کی نیکی اور نیک مزاجی پر نظر کر کے جس کا میں دل سے خواہاں تھا۔میں نے اپنے دل میں مقرر کر لیا کہ اسی نیک مرد سے میں اپنی دختر نیک اختر کا رشتہ کر دوں۔نیز مجھے دلی کے لوگ اور وہاں کی عادات واطوار بالکل ناپسند تھے۔اور وہاں کے رسم ورواج سے سخت بیزار تھا۔اس لئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگا کرتا تھا۔کہ میرا