حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ

by Other Authors

Page 10 of 14

حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ — Page 10

17 16 حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جب لاہور کا آخری سفر فرمایا جس میں آپ کی وفات ہوئی حضرت میر صاحب نے ساتھ ہی سفر کیا تھا۔حضرت میر صاحب فرماتے ہیں کہ وفات سے ایک دن قبل شام کو حضرت اقدس نے جو سیر کی اس میں بھی میں حضور کے ساتھ تھا۔دوسرے روز ہی دو پہر سے قبل حضرت اقدس کا انتقال ہوا۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔اور انتقال کے وقت بھی آپ حضرت اقدس کے پاس ہی موجود تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر لاہور میں ایک شور برپا ہو گیا۔اور مخالفین غل غپاڑہ کرنے لگے اور لوگوں نے اس گھر کو گھیر لیا جہاں حضرت اقدس رہائش پذیر تھے۔رات کے وقت حضرت اقدس علیہ السلام کا جنازہ بٹالہ بذریعہ ریل پہنچا اور پھر وہاں سے قادیان۔اس سارے سفر میں بھی حضرت میر صاحب کو حضرت اقدس علیہ السلام کے جنازہ کے ساتھ ساتھ رہنے کی سعادت نصیب ہوئی۔پھر جنازہ سے قبل اُن لوگوں میں بھی آپ شامل تھے۔جنہوں نے حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب بھیروی کو خلیفہ المسیح کی حیثیت سے چنا اور اُن کی بیعت کی۔حضرت میر صاحب کی قلمی خدمات پیارے بچو! حضرت میر صاحب جیسے دوسری خدمات سلسلہ میں مصروف رہتے تھے ایسے ہی آپ نے قلمی جہاد میں بھی خوب حصہ لیا۔جن دنوں انجمن حمایت اسلام لا ہور کا نیا نیا دور شروع ہوا اس کے تحت بڑی دھوم دھام سے جلسے ہوا کرتے تھے۔حضرت میر صاحب کو بھی ان جلسوں میں شرکت کی توفیق حاصل ہوئی۔آپ شاعر بھی تھے اور اپنا مدعا بڑی عمدگی کے ساتھ اشعار میں لوگوں کے سامنے رکھا کرتے تھے۔ایک مرتبہ آپ نے ایک نظم پڑھی اس میں ایک شعر یہ بھی تھا پھولوں کی گر طلب ہے تو پانی چمن کو دے جنت کی گر طلب ہے تو زر انجمن کو دے آپ کی یہ نظم بہت پسند کی گئی اور لوگوں نے یہ نظم سن کر دل کھول کر روپیہ دیا اور آپ کی یہ نظم الدَّالُ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ ( یعنی نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والا نیکی کرنے والے کی طرح ہوتا ہے ) کا موجب ہوئی۔آپ کا یہ طریق بھی تھا کہ مخالفین احمدیت کا جواب بھی آپ نظموں میں دیا کرتے تھے۔لدھیانہ شہر میں ایک اہل حدیث مولوی تھا حضرت میر صاحب چونکہ پہلے خود بھی اہل حدیث تھے آپ اس کی عزت کیا کرتے تھے اس لئے بھی کہ وہ نو مسلم بھی تھا۔لیکن جب اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف معاندانہ اشعار لکھے تو حضرت میر صاحب کو قطعاً برداشت نہ ہوا آپ نے اس وقت حضرت حسان بن ثابت کا کردار ادا کرتے ہوئے اس پر ایک نظم لکھی اس کے چند اشعار یوں ہیں۔اک سگ دیوانہ لدھیانہ میں ہے آجکل وہ خرشتر خانہ میں ہے مومنوں کا لائن و طاعن بنا کھل گیا سب اس کا نومسلم پنا شاعری پر اس کو اپنی ناز ہے ہے وہ شاعر یا کہ پھکڑ باز ہے اس کی بربادی کے ہیں آثار یہ دن بدن ہوگا زیاده خوار گر نہ باز آیا تو ہووے گا ذلیل اس پر نازل ہوگا ہر دم قہر ایل اس طرح آپ کا جواب ( دین حق ) اور احمدیت کے دشمنوں کے لئے ننگی تلوار کی طرح تھا۔حضرت میر صاحب ایک شاعر کے ساتھ ساتھ زبر دست مناظر بھی تھے۔آپ کا جواب دشمنوں کے لئے دندان شکن ہوا کرتا تھا۔اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ نے مناظرہ میں آپ کو غیر معمولی کامیابی عطا فرمائی۔