حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ

by Other Authors

Page 9 of 14

حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ — Page 9

15 14 اور سننے والا خود بخود اپنے چندے میں اضافہ کر دیتا آپ کا یہ طریق بڑا ہی پیارا تھا ہر شخص آپ کی عزت بھی کرتا اور آپ کی بات کو سمجھ کر اس پر فورا عمل کرنے کے لئے آمادہ بھی ہو جا تا۔احمد یہ کالج قادیان میں تعمیر ہونے والی ( بیت ) نور بھی آپ ہی کا کارنامہ ہے۔بیت مبارک کے سامنے فرش پیارے بچو! قادیان ایک ایسا شہر تھا کہ سب گلیاں کچی تھیں۔کوئی پکی سڑک نہ تھی نہ ہی کوئی کی نالی ، لوگ اپنے گھروں کا پانی باہر تو نکال دیتے لیکن وہ پانی راستوں میں ہی بہتا رہتا اور بیل گاڑیوں اور چھکڑوں کے آنے جانے سے کیچڑ ہو جاتا۔ہر آدمی اس بات کا احساس تو کرتا لیکن کوئی آگے بڑھ کر کام نہ کرتا۔( بیت ) مبارک کے پاس بھی یہی حال تھا۔اس کا لوگ خیال بھی کرتے لیکن اس جگہ پر اینٹوں کا فرش لگانے کے لئے اگر کوئی آگے آیا تو وہ آپ ہی کا وجود تھا۔آپ نے بڑی محنت سے الدار کے راستوں اور ( بیت ) مبارک کے سامنے اینٹوں کا فرش لگایا اور ہر آنے جانے والے کے لئے سہولت پیدا ہوئی۔ڈھاب کی بھرتی حضرت میر ناصر نواب صاحب کی یہ خصوصیت تھی کہ آپ کبھی بھی بریکار نہ بیٹھتے تھے اور ہر وقت کوئی نہ کوئی تجویز آپ کے ذہن میں پیدا ہوتی رہتی جس سے سلسلہ کو فائدہ پہنچانا آپ کے مد نظر ہوتا۔انہیں میں سے ایک یہ بات بھی ہے کہ آپ نے قادیان کے چاروں طرف جو ڈھاب تھی اس کی مشرقی جانب سے بھروائی شروع کر دی۔اُن دنوں روپوں کا کام پیسوں میں ہوتا تھا۔جب آپ یہ کام کروا ر ہے تھے تو کہتے ہیں کہ اُن دنوں ایک مرتبہ خواجہ کمال الدین صاحب قادیان آئے اور حضرت میر صاحب کے اس کام کو دیکھ کر کہنے لگے کہ آپ یہ کیا کام کر رہے ہیں۔سلسلہ کا پیسہ غرق کر رہے ہیں۔حضرت میر صاحب کی طبیعت بھی بڑی تیز تھی آپ نے انہیں جواب دیا کہ میں غرق کرتا ہوں تو تم سے لے کر نہیں۔حضرت صاحب کا روپیہ ہے تم کون ہو جو مجھ پر اعتراض کرتے ہو۔جاؤ حضرت صاحب کو کہو۔حضرت میر صاحب کی یہ بات سن کر خواجہ صاحب تو خاموش ہو گئے لیکن ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں یہ بات کہہ ڈالی۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ”میر صاحب کے کاموں میں دخل نہیں دینا چاہیے۔“ اب دیکھو جن لوگوں کو حضرت میر صاحب کی یہ بات فضول دکھائی دیتی تھی کہ آپ ڈھاب میں بھرتی ڈال رہے ہیں اُن کو اپنی غلطی کا احساس اس وقت ضرور ہوا ہوگا جب مدرسہ احمدیہ کی عمارت وہاں تعمیر ہوئی ہو گئی۔پیارے بچو! آج بھی جامعہ احمدیہ قادیان اور تعلیم الاسلام اسکول کی عمارتیں اسی جگہ پر واقع ہیں جہاں حضرت میر صاحب نے بڑی محنت اور مشقت سے بھرتی ڈالی تھی۔اس مدرسہ سے فارغ ہونے والے (مربیان) نے دنیا کے کونے کونے میں جا کر احمدیت کا پیغام پہنچایا اور ( دین حق) کے غلبہ کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔اللہ تعالیٰ حضرت میر صاحب کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور آپ کو اجر عظیم عطا کرے۔آمین حضرت اقدس کی خدمت حضرت میر صاحب نے جہاں اپنے آپ کو سلسلہ کے کاموں کے لئے وقف کر دیا تھا وہاں آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت کرنا بھی اپنے پر فرض کرلیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سب کام آپ ہی دیکھا کرتے حتی کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام قادیان سے باہر کہیں جاتے تو سب گھر بار کی نگرانی آپ ہی کے سپر دہوتی۔حضرت اقدس کی آخری عمر میں بھی ہمیشہ آپ کے ہمرکاب ہوتے اور آپ کی خدمت پر مامور رہتے۔