حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ

by Other Authors

Page 4 of 14

حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ — Page 4

4 ༡༥/ جب آپ کا خاندان دہلی میں آباد ہو گیا اور کچھ امن کی صورت پیدا ہوئی تو اس وقت آپ کی عمر بارہ سال کے قریب ہو چکی تھی۔آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کو حضرت میر ناصرحسین صاحب کے پاس جو کہ آپ کے ماموں تھے اور ملک پنجاب میں بمقام مادھو پور ضلع گورداسپور میں رہتے تھے بھجوادیا۔اُن کے پاس رہ کر دیگر علوم تو حاصل کئے لیکن بڑے بھائی کے مشورہ پر انگریزی پڑھنے سے انکار کر دیا۔شادی پیارے بچو! حضرت میر صاحب کا زمانہ ایسا تھا کہ لوگ اپنے بچے بچیوں کی شادیاں چھوٹی عمر میں ہی کر دیا کرتے تھے۔اسی رواج کے مطابق آپ کی فہمیدہ اور مہربان والدہ نے آپ کی شادی سولہ 16 سال کی عمر میں ہی کر دی۔آپ کی بیوی کا نام سید بیگم تھا۔حضرت میر صاحب نے اپنی بیوی کی وہ تمام صفات گنوائی ہیں جو ایک باوفاعورت میں ہونی چاہئیں۔آپ فرماتے ہیں: اس بابرکت بیوی نے جس سے میرا پالا پڑا تھا۔مجھے بہت ہی آرام دیا۔اور نہایت ہی وفاداری سے میرے ساتھ اوقات بسری کی۔اور ہمیشہ مجھے نیک صلاح دیتی رہی۔اور کبھی بے جا مجھ پر دباؤ نہیں ڈالا۔اور نہ مجھ کو میری طاقت سے بڑھ کر تکلیف دی۔میرے بچوں کو بہت ہی شفقت اور جانفشانی سے پالا۔نہ کبھی بچوں کو کوسانہ مارا۔اللہ تعالیٰ اسے دین ودنیا میں سرخرو رکھے اور بعد انتقال جنت الفردوس عنایت فرما دے۔بہر حال عسرویسر میں میرا ساتھ دیا۔جس کو میں نے مانا اس کو اس نے مانا۔جس کو اولاد 5 میں نے پیر بنایا۔اس نے بھی اس سے بلا تامل بیعت کی۔چنانچہ عبداللہ صاحب غزنوی کی میرے ساتھ بیعت کی۔نیز مرزا صاحب کو جب میں نے تسلیم کیا۔تو اس نے بھی مان لیا۔ایسی بیویاں بھی دنیا میں کم میسر آتی ہیں۔(حیات ناصر صفحہ 5-6) 1865ء میں شادی کے تین سال بعد آپ کے ہاں ایک با اقبال لڑکی پیدا ہوئیں۔یہ وہی لڑکی تھیں جو بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حرم میں داخل ہو کر ( حضرت اماں جان ) کہلائیں۔حضرت میر ناصر نواب صاحب کے ہاں حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کے بعد پانچ بچے پیدا ہوئے اور سب ہی مشیت الہی نے اپنے پاس بلا لئے مگر پانچ بچوں کا داغ جدائی کھا کر بھی ثابت قدم ناصر نواب اپنے رب کا عبد شکور رہا۔تب خدا تعالیٰ نے 1881ء میں اپنے فضل سے ایک بچہ عطا فرمایا جس کا نام محمد اسماعیل رکھا گیا جو بعد میں اپنے وقت کا ایک خاص آدمی ثابت ہوا اور ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کر کے ترقی کرتے ہوئے حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب سول سرجن کہلایا۔حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کی پیدائش کے بعد بھی حضرت میر صاحب کے پانچ بچے اور پیدا ہوئے جو سب کے سب اللہ تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت وفات پا گئے۔حضرت میر صاحب نے ان سب کی وفات پر رضاء بالقضاء کا ثبوت دیا۔تب 1890ء میں اللہ تعالیٰ نے بمقام لدھیانہ ایک اور بچہ عطا فر مایا۔اس کا نام حضرت میر صاحب نے محمد اسحق رکھا۔(سیرت حضرت نصرت جہاں بیگم صاحبہ، صفحہ 123)