حضرت میر محمد اسحاق صاحب ؓ — Page 14
24 23 23 خدایا اس بنی پر اور بنے پر فضل کر اپنا اور انکے دل میں پیدا کر دے جوش دیں کی خدمت کا کلام پاک کی الفت کا انکے دل میں گھر کر دے نبی سے ہو محبت اور تعشق ان کو ہو تجھ سے بھی تھا تو عارضی۔آپ کہا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام" "خدا اسکو پہلی بار ہلاکت سے بچائے گا۔“ بھی آپ ہی کے بارہ میں ہے۔آپ بیماری کے با وجود آرام کی پرواہ کئے بغیر کام میں مصروف رہتے۔بالآخر 16 مارچ 1944 ء کو اچانک بے ہوش ہو کر زمین پر گر گئے۔آپ کو گھر لے جایا گیا اور فوری علاج شروع بہت بھایا ہے اے محمود یہ مصرعہ میرے دل کو ہوا۔مگر کوئی افاقہ نہ ہوا۔17 مارچ کی شام مغرب کے قریب نبض کمزور ہونے لگی۔حافظ قدرت اللہ صاحب نے سورۃ یسین سنانی شروع کی تو جب اس آیت پر پہنچے مبارک ہو یہ شادی خانہ آبادی مبارک ہو ( کلام محمود صفحه 3) سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبِّ رَّحِيمٍ تو آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔عجیب آپ سادہ لباس پہنتے تھے اور نہایت سادگی سے رہتے تھے۔ایک دفعہ اپنے اتفاق ہے کہ بچپن میں آپ کی صحت کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہی کپڑے مرمت کیلئے دیئے تو درزی نے کہا کہ اب اسکی مرمت صرف اسی صورت میں آیت الہام ہوئی تھی اور اسی آیت پر آپ کا بابرکت انجام ہوا۔ہوسکتی ہے کہ اس پر پیوند لگایا جائے۔آپ نے فرمایا کہ بےشک پیوند لگا دو۔آنحضور ہ بھی پیوند لگے کپڑے زیب تن فرما لیتے تھے۔فرمالیتے حضرت مصلح موعود وہیں موجود تھے حضور نے آپ کی وفات پر جو کچھ فرمایا۔میں اپنے اس مضمون کو انہی الفاظ پر ختم کرتا ہوں کہ یہ الفاظ ہمیں ہماری ذمہ آپ نے کئی کتب تحریر کی تھیں۔عام طور پر منطقی انداز تحریر ہوتا اور بڑے داری بتارہے ہیں۔حضرت مصلح موعود نے فرمایا۔دو بڑے مسائل کو آسانی اور سادہ انداز میں سمجھانے کا خاص ملکہ آپ کو حاصل تھا۔طلباء کو میر محمد اسحاق صاحب خدمات سلسلہ کے لحاظ سے غیر معمولی وجود تھے۔تعلیم بھی اسی طرز پر دیتے تھے کہ طلباء میں سبق سے دلچسپی پیدا ہو جاتی اور مشکل مسائل در حقیقت میرے بعد علمی لحاظ سے جماعت کا فکر اگر کسی کو تھا تو ان کو۔رات دن قرآن کو سادہ زبان میں سمجھا دیتے۔وحدیث لوگوں کو پڑھانا ان کا مشغلہ تھا۔وہ زندگی کے آخری دور میں کئی بارموت کے آخری عمر میں آپ بیمار رہنے لگے تھے۔کئی دفعہ علاج کروایا اگر افاقہ ہوتا منہ سے بچے۔جلسہ سالانہ پر وہ ایسا اندھا دھند کام کرتے کہ کئی باران پر نمونیہ کا حملہ