حضرت میر محمد اسحاق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 15 of 16

حضرت میر محمد اسحاق صاحب ؓ — Page 15

26 25 ہوا۔ایسے شخص کی وفات پر طبعا لوگوں میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اب ہم کیا ہیں۔۔۔۔۔آٹھ دس علماء تو ہر وقت ایسے چاہئیں جو مرکز میں رہیں اور مختلف ( بیوت کریں گے۔لیکن اگر ہماری جماعت کا ہر شخص ویسا ہی بننے کی کوشش کرتا تو آج یہ الذکر) میں قرآن و حدیث اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا درس احساس نہ پیدا ہوتا کہ اب ہم کیا کریں گے بلکہ ہر شخص جانتا ہے کہ ہم سب یہی کر با قاعدہ جاری رہے اور اس طرح نظر آئے کہ گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رہے ہیں۔عزیز اور دوست کی جدائی کا غم تو ضرور ہوتا ہے مگر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ہم میں زندہ موجود ہیں۔۔۔۔اب اس کام کو کون سنبھالے گا۔قرآن کریم کا درس ہم میں جاری رہے تو گویا کہ زندہ خدا ہم میں موجود موت کا رنج تو لازمی بات ہے۔مگر یہ رنج مایوسی پیدا نہیں کرتا۔بلکہ ہر شخص ہوگا۔اگر حدیث کا درس جاری رہے تو گویا آنحضرت ﷺ ہم میں زندہ ہوں گے۔ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے۔کہ اس نے وقت پر چاروں کونوں کو سنبھال اگر کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا درس جاری ہے تو گویا حضرت مسیح لیا تھا۔احباب کی اس غلطی کی وجہ سے کہ ہر ایک نے وقت پر اپنے آپ کو سلسلہ کا واحد موعود علیہ السلام ہم میں زندہ ہوں گے۔۔۔۔۔نمائندہ تصور نہ کیا۔اور اس کے لئے کوشش نہ کی۔آج میر صاحب کی وفات ایسا بڑا۔۔۔۔۔پس اب بھی سنبھلو ! حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یادگار لوگ اب نقصان ہے کہ نظر آرہا ہے اس نقصان کو پورا کرنا آسان نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ بہت تھوڑے رہ گئے ہیں۔۔۔۔۔بڑے خطرات کے دن ہیں۔اس لئے سنبھلو۔اپنے السلام کے زمانہ میں مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اس طرز کے آدمی تھے ان کے بعد نفسوں سے دنیا کی محبت سرد کر دو۔اور دین کی خدمت کے لئے آگے آؤ اور ان لوگوں حافظ روشن علی صاحب مرحوم تھے۔اور تیسرے اس رنگ میں میر صاحب رنگین کے علوم کے وارث بنو جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت پائی تاتم آئندہ نسلوں کوسنبھال سکو “ قحط الرجال ایسی چیز ہے جو لوگوں کے دل میں مایوسی پیدا کر دیتی ہے۔۔۔۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے بر وقت سمجھ دی اور میں نے نوجوانوں کو 66 ( دو بھائی صفحہ 141 تا 144) آپ کی چار صاحبزادیاں اور تین صاحبزادے تھے۔بڑی صاحبزادی محترمہ زندگیاں وقف کرنے کی تحریک کی جس کے ماتحت آج نوجوان تعلیم حاصل کر رہے سیده نصیرہ بیگم صاحبہ اہلیہ حضرت مرزا عزیز احمد صاحب تھیں۔دوسری صاحبزادی