حضرت میر محمد اسحاق صاحب ؓ — Page 11
18 17 صاحب ایک فتویٰ درکار ہے۔میر صاحب نے پوچھا کہ کیا بات ہے تو حافظ صاحب جو بچے اس ادارے میں رہتے تھے ان سے نہایت شفقت کا سلوک فرماتے نے پیالہ دکھا کر میر صاحب سے پوچھا کہ کیا اس طرح کی دال سے وضو ہو سکتا ہے۔اور کوشش کرتے کہ انہیں اپنے ماں باپ کی محرومی کا احساس کم سے کم ہو۔ایک دفعہ میر صاحب نے ان سے پیالہ لے لیا کہ میں ذراغور کر کے بتاتا ہوں۔اور وہ پیالہ ایک بچے نے فیس جمع کروانی تھی اور اس کے پاس رقم نہیں تھی۔میر صاحب مدرسہ دیگ میں الٹا کر گوشت کا پیالہ حضرت حافظ صاحب کو پیش کیا اور کہا کہ آپ کے فتویٰ کے انچارج تھے اور فیس وصول کرنے کے نگران کے پاس بچے باری باری جا کر فیس جمع کرواتے تھے۔جب وہ بچہ قریب آیا تو میر صاحب نے اپنے ایک ہاتھ سے چپکے کا یہ جواب ہے۔ایک دفعہ ایک دوست دیر سے آئے تو اتفاقا روٹی ختم ہو چکی تھی۔انہوں نے سے انہیں فیس پکڑا دی کہ یہ جمع کروا دو۔اس طرح فیس بھی جمع ہوگئی اور بچہ پریشان میر صاحب سے شکایت کی تو میر صاحب انہیں لے کر دستر خواں پر گئے تو وہاں بعض ہونے سے بچ گیا۔بچے ہوئے ٹکڑے موجود تھے۔ان کی دلداری کیلئے میر صاحب نے کہا کہ روٹی تو عید کے موقع پر ان بچوں کو عیدی تقسیم کرنے کے لئے نئے سکے منگواتے اور ہے۔میں نے بھی کھانا ابھی کھانا ہے۔آیئے کھاتے ہیں چنانچہ خود ان بچے ہوئے ان میں عیدی تقسیم کرتے۔ٹکڑوں سے کھانا شروع کر دیا۔چنانچہ وہ دوست بھی کھانے لگے اور شکوہ دور ہو گیا۔اسی طرح غریبوں کا خیال رکھنے کی ہر طرح کوشش کرتے۔ایک دفعہ مہمان نوازی کے اس امتیازی وصف کے ساتھ میر صاحب کا دوسرا بڑا وصف قادیان سے باہر کچنک پر گئے اور سب ساتھیوں کیلئے بھنے ہوئے چنے اور ان میں شکر غریبوں اور یتیموں کی دیکھ بھال تھا۔آپ نے دار الشیوخ ( قادیان دارالامان میں ڈلوا کر پیش کی۔ایک نابینا دوست جو راستے میں گندے پانی میں گر گئے تھے اور ان یتامی کی کفالت کا ادارہ) کا کام سنبھالا اور اس کے اخراجات کیلئے مخیر احباب سے کے کپڑے خراب اور بد بودار ہو گئے تھے علیحدہ کھڑے تھے۔جب میر صاحب نے چند ہو لیا کرتے تھے۔ایک دفعہ منتظم نے عرض کی کہ آنا وغیرہ ختم ہو گیا ہے تو میر صاحب انہیں دیکھا تو پلیٹ پکڑ کر ان کے پاس گئے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانے لگے۔یہ کو شدید بخار تھا۔آپ اسی حالت میں اٹھے، تانگہ منگوایا اور بعض دوستوں کے پاس ادا ئیں آپ نے اپنے مطاع حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہی سیکھی تھیں جو اپنے جا کر چندہ کی تحریک کی اور اس طرح اس مسئلہ کو حل کر دیا۔ایک غریب رفیق میاں نظام الدین صاحب کو الگ لے جا کر ایک پیالے میں