حضرت میر محمد اسحاق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 10 of 16

حضرت میر محمد اسحاق صاحب ؓ — Page 10

16 15 کوئی عطر اور کوئی پھول اپنی طرف مائل نہیں کر سکتا۔اور میری ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے 1937 ء میں آپ کو مدرسہ احمدیہ کا ہیڈ ماسٹر بنادیا گیا۔آپ نے تو گویا اس کی کہ لوگ میرے آقا کا کلام پڑھیں اور سنیں اس لئے میں بخاری شریف کی حدیثیں کا یا پلٹ دی۔ایسا عمدہ انتظام شروع کیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے مدرسہ احمد یہ ایک نہایت عمدہ ادارے کی حیثیت اختیار کر گیا۔طلباء کو وقت پر آنے کا کہتے اور اسمبلی کے چند منٹ لوگوں کو سناتا رہتا ہوں۔“ دو بھائی از غلام باری سیف صاحب صفحہ 108-107 ) بعد گیٹ بند کروادیتے۔جو طلباء دیر سے آتے ان کے لئے صحن میں ایک دائرہ کھنچوا دیا چونکہ آپ نے اپنی زندگی جماعت کی خدمت کے لئے وقف کی ہوئی تھی اس جس میں کچھ دیر انہیں کھڑا ر کھتے۔اس دائرے کا نام ” دَائِسرةُ الكُسَالی “ یاست لئے تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ جماعت کے مختلف شعبہ جات میں خدمات سرانجام طلباء کا دائرہ رکھا۔چنانچہ طلباء اس دائرے میں کھڑے ہونے سے بچنے کے لئے دیتے رہے جن میں جامعہ احمد یہ میں استاد اور لنگر خانہ کے نگران کی حیثیت سے آپ وقت پر آنا شروع ہو گئے۔سبق نہ یاد کر کے آنے والوں کیلئے چھٹی کے بعد ایک کلاس کی خدمات بہت نمایاں ہیں۔آپ جلسہ سالانہ کے دنوں میں انتظامات جلسہ کے بٹھا دی جاتی جسے "تنبيه الْغَافِلِين“ یا غافلوں کے لئے وارننگ کا نام دیا۔غرض مختلف نگران ہوا کرتے تھے۔ایک بار پہلے دن جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی افتاحی تقریر ذرائع سے طلباء میں بیداری پیدا کر دی۔کے لئے جلسہ گاہ تشریف لائے تو حضور نے محسوس کیا کہ جلسہ گاہ حاضرین کی گنجائش لنگر خانہ کے نگران ہونے کی حیثیت سے مہمانوں کا بہت خیال رکھتے۔حتی سے چھوٹی تعمیر کی گئی ہے۔اور اس پر اظہار نا پسندیدگی فرمایا۔میر صاحب نے راتوں کہ بعض اوقات قادیان میں مخالفین احمدیت کے جلسوں کے موقع پر غیر از جماعت رات خدام اکٹھا کر کے جلسہ گاہ تو ڑ کر وسیع جلسہ گاہ تعمیر کر دی۔اگلے روز جب حضور احباب کو گھومتا دیکھتے تو ان کو اپنے ہمراہ لنگر خانے لے آتے اور کھانا کھلاتے۔تقریر کیلئے تشریف لائے تو جلسہ گاہ کا نقشہ دیکھ کر بہت حیران بھی ہوئے اور اظہار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک رفیق حضرت حافظ معین الدین خوشنودی بھی فرمایا۔اس طرح میر صاحب نے جہاں نہ صرف اطاعت کی ایک صاحب تھے جو نا بینا تھے۔وہ لنگر خانے سے کھانا کھاتے تھے۔ایک دفعہ انہیں کسی نے شاندار مثال قائم کی وہاں اعلیٰ ہمتی کا سبق بھی ہمیں دیا کہ ارادہ کر لو تو کوئی کام مشکل وال کا پیالہ دیا جو نہایت پتلی تھی۔حضرت حافظ صاحب ایک اچھی حس مزاح رکھنے والے تھے۔آپ پیالہ پکڑ کر حضرت میر صاحب کے پاس گئے اور فرمانے لگے کہ میر نہیں رہتا۔