حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ

by Other Authors

Page 19 of 26

حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ — Page 19

35 34 دفعہ دعا کروں گا کہ اللہ جلشانہ مشکل پیش آمدہ سے مخلصی عطا فرمائے۔مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۵ صفہ نمبر ۱۵۶ مکتوب نمبر ۸۲/۱۱) پھر ایک اور خط میں حضور نہایت محبت سے تحریر فرماتے ہیں: میں بخوبی اس بات پر مطمئن ہوں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کے دل میں اخلاص اسی طرح حضرت میاں عبد اللہ سنوری صاحب کے نام ایک اور خط میں درج اور محبت کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔اور آپ کو فطرتی مناسبت ہے اور ایسی محبت ہے کہ ہے کہ آپ کے لئے حضرت باری عَزّ اسمہ میں تہجد میں دعا کی گئی۔مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۵ صفحہ نمبر ۱۷۵ مکتوب نمبر ۱۱۸/۴۷) ایک اور مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں: میں نے اس خط کے لکھنے سے پہلے جناب الہی میں بہت دعا کی ہے۔اگر تقدیر مبرم نہ ہو تو قبول ہونے کی اُمید ہے۔“ مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۵ صفحه نمبر ۲۰۲ مکتوب نمبر ۱۵۰/۷۹) صرف دعائیں کرنے پر بس نہیں بلکہ حضور کئی مرتبہ مجرب نسخے بھی تجویز فرماتے اور حضرت میاں عبداللہ سنوری صاحب کی دل جوئی اور ہمدردی کے لئے حسب حالات بہت کچھ تحریر فرمایا کرتے۔زمانے کے رنگ بدلانے سے دور نہیں ہوسکتی۔سو میں آپ پر بہت خوش ہوں۔“ مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ۵ صفحه۲۰۱،۲۰۰ مکتوب نمبر ۱۴۹/۷۸) اور ایک موقع پر تو حضور کے دوائی بھجوانے کا ذکر بھی ملتا ہے۔مکتوبات احمد یہ جلد پنجم صفحه ۱۸۵ مکتوب نمبر ۱۳۰/۵۹) اپنی کتب بھی کئی مرتبہ آپ کو ارسال فرماتے جیسا کہ اپنی کتاب نشان آسمانی ۲۳ جولائی ۱۸۹۲ء کو بذریعہ ڈاک ارسال فرمائی۔مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۵ صفحه ۱۷ مکتوب نمبر ۱۰۹٫۳۸) پھر حضور آپ کی خیریت وعافیت کے بارہ میں بھی اکثر دریافت فرماتے رہتے تھے اور آپ کے نام کئی خطوط میں اپنے حالات خیریت سے جلد جلد مطلع کرنے مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۵صفه نمبر۳۰۲ مکتوب نمبر ۱۵۰/۷۹) کی نصیحت فرماتے۔حضور صرف آپ کی خیریت کی اطلاع کافی نہ خیال فرماتے تھے بلکہ آپ سے پیار و محبت اس قدر تھا کہ اکثر خط لکھ کر قادیان بلوایا کرتے اور منتظر رہا کرتے۔آپ کے آنے کی اطلاع ملتی تو نہایت خوش ہوتے۔ایک خط میں حضور تحریر فرماتے ہیں: میں تم پر بہت راضی ہوں اور جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے تمہارے دل میں اخلاص اور محبت بھری ہوئی ہے۔“ مکتوبات احمد یہ جلد پنج نمبر ۵ صفحه ۱۲ مکتوب نمبر ۸۶/۱۵) اسی طرح آپ کے نام حضور کے ایک اور خط میں تحریر ہے۔میں آپ کے اخلاص اور محبت سے شکر گزار ہوں۔جَزَاكُمُ اللهُ خَيْرًا مکتوبات جلد پنجم نمبر ۵ صفحه ۱۶ مکتوب نمبر ۸۸/۱۷) مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۵ صفحه ۱۷۱ مکتوب نمبر ۱۱۰٫۳۹) حضرت میاں عبداللہ سنوری صاحب کی ہر دو اہلیہ کے ساتھ بھی حضور نہایت شفقت و محبت کا سلوک فرماتے۔اسی طرح آپ کے والد صاحب اور بیٹوں کی صحت کے بارہ میں بھی دریافت فرمایا کرتے اور اُن کے لئے بھی دعائیں کرتے۔مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۵ صفحه ۱۹۳ ۲۰۶،۲۰۵،۲۰۴،۲۰۲،۱۹۴۷)