حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ — Page 25
47 46 تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نوراللہ مرقدہ نے خطبہ جمعہ کے بعد آپ کے انتقال کے متعلق نہایت رقت انگیز تذکرہ کے آغاز میں فرمایا: مولوی عبد اللہ سنوری صاحب اپنے اخلاص کے لحاظ سے جو درجہ رکھتے تھے وہ سب کو معلوم ہے۔حضرت صاحب کے پرانے خادموں میں سے تھے۔اُن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مختلف موقعوں پر بہت کچھ لکھا ہے۔ان کی وفات ایک بہت بڑا صدمہ ہے۔۔۔6❝ (روز نامه الفضل ۱۱/اکتوبر ۱۹۲۷ء) نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد حسب اعلان لوگ بہشتی مقبرہ کے متصلہ باغ میں جمع ہونے شروع ہو گئے۔جنازے کو کندھا دینے والوں کا اس قدر ہجوم تھا کہ آدمی پر آدمی گرا پڑتا تھا۔جنازہ میں لوگ اس کثرت سے شریک ہوئے کہ اس سے قبل قادیان میں کسی جنازے میں اتنا مجمع نہیں دیکھا گیا۔ما میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی تشریف آوری تک مردوں اور عورتوں کے بہت بڑے ہجوم نے حضرت منشی عبد اللہ سنوری صاحب اور سُرخی کے چھینٹوں والے مقدس گرتے کی آخری زیارت کی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے بھی میت کو کندھا دیا۔اس رنج و ملال کرتا ہوں جن کو خدا تعالیٰ کی مشیت نے اس سال ہم سے جدا کر لیا۔ان میں مقدم وجود مولوی عبد اللہ سنوری صاحب کا ہے۔میرے نزدیک ہر سلسلہ کے خادم اور ہر ( دین حق ) کے خدمت گزار کا جدا ہونا بہت رنج اور تکلیف کی بات ہے مگر مولوی عبد اللہ سنوری صاحب سلسلہ کے خادم ہی نہ تھے بلکہ اپنے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک نشان بھی رکھتے تھے جو ان کے دفن ہونے کے ساتھ ہی دفن ہو گیا۔“ ( تقریر دلیل مسلم ۵) پھر حضور فرماتے ہیں: ان باتوں کا اظہار میں نے اس لئے کیا ہے تا جماعت میں احساس پیدا ہو کہ جو وجود سلسلہ کے خدمت گزار اور قابل قدر ہوں اُن کے لئے محبت اور الفت کے جذبات پیدا ہوں۔۔۔۔۔ان سے اپنے اخلاص کا اظہار کیا جائے۔“ ( تقریر دلپذ یر صفحه ۸،۷) خدا کرے کہ ہم حضرت مصلح موعود کی اس خواہش کو پورا کرتے رہیں اور کے بعد نماز جنازہ پڑھائی اور بخش مبارک مقبرہ بہشتی قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فرمان کے مطابق حضرت منشی عبد اللہ سنوری الصلوۃ والسلام کے مزار کے قریب قلعہ خاص میں دفن کی گئی۔صاحب جیسے مقدس وجودوں کی عادات واطوار اپنا کر خدا تعالیٰ کی رضا کی راہوں پر اسی سال جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے تقریر دلپذیر چلنے کی توفیق پائیں۔آمین۔میں بزرگ ہستیوں کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے فرمایا: میں نہایت افسوس کے ساتھ ان چند احباب کی جدائی پر اظہار