حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ

by Other Authors

Page 16 of 26

حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ — Page 16

29 28 بہت سے خطوط حضرت عبد اللہ سنوری صاحب سے لکھوایا کرتے۔اسی طرح حضور کہ حضرت صاحب کی طرف سے کوئی تحریک ہو اور اُس میں حصہ لیں بلکہ اُنہوں نے کے گھر کے دوسرے بہت سے کام سرانجام دینے کی توفیق بھی آپ کو ملتی رہتی۔حضور اپنی زندگی کے روزمرہ معمولات میں اس بات کو داخل کر لیا تھا کہ سلسلہ کی مالی خدمت کئی مرتبہ آپ کو طباعت و اشاعت کے کاموں کے سلسلہ میں امرتسر بھجوایا کرتے اور پھر ایک ایسا ہی فرض ہے جیسا کہ انسان کو زندہ رہنے کے لئے کھانے پینے کی ضرورت آپ ہی مطبوعہ مواد کو حضور کے ساتھ ترتیب دیتے اور بہت سے خطوط اور اشتہارات ہے۔یہ احساس اور شعور اُن کی زندگی کا حصہ بن چکا تھا۔وغیرہ ڈاک خانے جا کر پوسٹ کرتے۔اشاعت کے کاموں کے علاوہ دیگر کئی کاموں سے بھی حضور آپ کو دوسرے مقامات پر بھجوایا کرتے۔وَسِعُ مَكَانَگ“ (یعنی اپنے مکان کی توسیع کر ) کا الہام ہونے پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس وقت کے حالات کے مطابق عملی طور پر اُس الہام کو پورا کرنے کی غرض سے دو تین چھپر بنوانے کے لئے آپ ہی کو امرتسر بھجوایا۔(سیرۃ المہدی حصہ اول صفحه ۱۲۹ روایت نمبر ۱۳۸) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مختلف سفروں میں آپ کو حضور کے حضور اپنی کتاب ”ازالہ اوہام میں چندہ دہندگان کی فہرست میں اول نام آپ کا درج کر کے تحریر فرماتے ہیں: میاں عبد اللہ نہایت عمدہ آدمی ہے اور میرے منتخب متبوں میں سے ہے اور باوجود تھوڑے گزارہ ملازمت پٹوار کے ہمیشہ حسب مقدرت اپنی مالی خدمت میں بھی حاضر ہے اور اب بھی بارہ روپیہ سالانہ کے طور پر مقرر کر دیا ہے۔“ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد نمبر ۳ صفحه ۵۳) سلسلہ کی خدمت کے لئے آپ کے دل میں جس قدر جوش اور جذبہ تھا اُس کا ساتھ رہ کر خدمات بجالانے کا جو موقع ملا اس کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔غرض ان نیام اظہار اس واقعہ سے بھی ہوتا ہے کہ دوسری شادی کو ابھی چند سال ہی گزرے تھے کہ میں وقت اور جذبات کی بے مثال قربانی کی توفیق آپ کو حاصل ہوتی رہی لیکن اسی پر سلسلہ کے کاموں کے لئے آپ نے اپنی چھوٹی اہلیہ کے زیور نتھ طلائی وغیرہ حضور کی بس نہیں بلکہ تھوڑی تنخواہ ہونے کے باوجود اُس کا ایک بڑا حصہ مختلف صورتوں میں خدمت میں بذریعہ ڈاک بھجوا دیئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں پیش فرما دیا کرتے۔حضور نے کوئی تحریک ایسی نہیں کی جس میں آپ مکمل انشراح صدر کے ساتھ شریک نہ ہوئے ہوں۔بلکہ سچ تو یہ ہے کہ آپ نے اپنے لئے اپنا کچھ رکھا ہی نہ تھا۔آپ کو قریب سے جاننے والے بتاتے ہیں کہ وہ اپنی ضروریات اور اپنے کنبہ کی ضروریات کو جس قدر کم کر سکتے تھے کرتے تھے اور جو کچھ بھی پس انداز کر سکتے تھے بچاتے تھے اور لاکر حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کر دیتے تھے۔وہ دراصل اس بات کے منتظر نہ رہتے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ اور آپ کی اہلیہ محترمہ کی اس خدمت کو سراہتے ہوئے درج ذیل خط تحریر فرمایا: بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلى مجی عزیزی اخویم میاں عبد اللہ صاحب سلمہ السلام عليكم ورحمة الله وبركاته آپ کا تحفہ مرسلہ منتقه طلائی به سبیل ڈاک مجھ کو پہنچ گیا۔اس سے بڑھ کر