حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ — Page 15
27 26 انتہائی غیرت کے جذبات رکھتے تھے۔شروع میں آپ مولوی محمد حسین بٹالوی کے اُسی وقت سید ھے پادری کی کوٹھی پر چلے گئے۔وہاں پادری صاحب کے خانساماں بہت معتقد تھے۔حضور جب کوئی خط وغیرہ دے کر مولوی محمد حسین بٹالوی کے پاس نے ان کی بڑی خاطر مدارت کی اور اگلی صبح پادری صاحب سے ملاقات کروا دی۔حضرت میاں عبد اللہ سنوری صاحب اپنے آقا کے حکم کی تعمیل کر کے قادیان واپس آ آپ کو بھجواتے تو آپ بہت عقیدت سے ملا کرتے مگر آپ کا بیان ہے کہ ” جب اس نے حضرت صاحب کی مخالفت کی تو مجھے اس سے نفرت ہوگئی اور میں نے کبھی اس کی صورت تک دیکھنی پسند نہیں کی۔“ (سيرة المهدی صفحه ۲۴۶ روایت نمبر ۲۷) گئے اور حضور کی خدمت میں سارا واقعہ عرض کر دیا۔اہم دینی خدمات (سیرۃ المہدی حصہ اول صفحه ۲۴۲ ، ۲۴۳ روایت نمبر ۲۶۶) حضرت میاں عبداللہ سنوری صاحب اپنے محبوب آقا کی دل و جان سے اطاعت کرتے اور اس کے لئے ہر وقت تیار رہا کرتے۔اپنے آقا کی طرف سے جو حکم حضرت عبداللہ سنوری صاحب کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی ملتا اُس پر فوراً عمل کرنا شروع کر دیتے۔محبت و اخلاص ایک عاشقانہ رنگ رکھتی تھی۔آپ اپنے آقا کے مشن کو کامیاب بنانے ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ اشتہار دیا کہ کوئی کیلئے ہر قسم کی خدمت کے لئے تیار رہا کرتے۔ادنیٰ سے ادنیٰ کام کی انجام دہی میں غیر مذہب کا ماننے والا یا کوئی مخالف اگر کوئی نشان دیکھنا چاہتا ہے تو میرے پاس آ بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ حضور سے پہلی ملاقات کے دن کر رہے۔پھر اگر نشان نہ دیکھے تو میں اُسے اتنا انعام دوں گا۔اشتہار دیے جانے سے اپنی وفات تک آپ نے سلسلہ عالیہ احمدیہ کی خاطر ہر کام کو نہایت خوشی اور مسرت کے کچھ عرصہ بعد حضور نے ایک روز حضرت میاں عبد اللہ سنوری صاحب کو بٹالے سے سرانجام دیا اور اپنے لئے اس کام کو فخر اور سعادت سمجھا۔میں پادری وائٹ بریخٹ کے پاس جانے کا ارشاد فرمایا تا کہ وہ اُنہیں نشان نمائی کی اس دعوت کو قبول کرنے کے لئے آمادہ کر سکیں۔تھی لیکن آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہونے کا اُس وقت شام ہو چکی تھی۔سردیوں کے دن تھے اور بارش بھی ہو رہی تھی۔کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔مسلسل کئی کئی ماہ تک خصوصاً ماہِ رمضان میں آپ اس لئے حضرت میاں حامد علی صاحب نے روکا کہ صبح چلے جانا۔مگر حضرت میاں قادیان آ کر حضور کی صحبت میں رہا کرتے اور یہ مواقع اُن ایام میں آپ کو نصیب عبد اللہ سنوری صاحب نے کہا کہ جب حضرت نے فرمایا ہے تو خواہ کچھ ہو میں تو ابھی ہوئے جبکہ کوئی دوسرا وہاں نہ ہوتا۔آپ گھنٹوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جاؤں گا۔چنانچہ وہ اُسی وقت قادیان سے بٹالہ جانے کے لئے پیدل روانہ ہو گئے اور رات کے قریباً دس بجے بارش سے تر بتر اور سردی سے کانپتے ہوئے بٹالہ پہنچے اور اگر چہ آپ محکمہ مال میں ملازمت کرتے تھے اور آپ کی تنخواہ بھی کچھ زیادہ نہ دبانے کا شرف حاصل کرتے۔ابتدائی ایام میں جب کہ حضور نے ابھی ماموریت کا دعویٰ نہیں فرمایا تھا آپ