حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ

by Other Authors

Page 14 of 26

حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ — Page 14

25 24 وجہ سے حضرت میاں عبد اللہ سنوری صاحب کے اندر فہم قرآن کا ایک خاص اثر پیدا ہو گیا جس کا وہ اظہار بھی فرماتے۔(ماہنامہ انصار اللہ مارچ ۱۹۹۰ ء، سیرۃ المہدی حصہ اول صفحه ۸۳) حضرت میاں عبد اللہ سنوری صاحب نے ایک روز حضور کی خدمت میں حضرت میاں عبداللہ سنوری صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلق رکھنے والے بہت سے واقعات اور آپ کے فرمودات کے امین بھی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشہور مخالف پادری عبد اللہ آتھم کے ساتھ ہونے والے مباحثہ کے بارے میں حضرت میاں عبد اللہ سنوری صاحب کا بیان عرض کیا کہ حضور میں جب قادیان آتا ہوں تو اور کوئی خاص بات محسوس نہیں ہوتی مگر ہے کہ جب حضور نے یہ بیان کیا کہ آتھم نے اپنی کتاب از روئے بائبل میں آنحضرت میں یہ دیکھتا ہوں کہ یہاں وقتاً فوقتا یکلخت مجھ پر بعض آیات قرآنی کے معنے کھولے صلی اللہ علیہ وسلم کو ( نعوذ باللہ ) دجال کہا ہے تو آتھم نے ایک خوفزدہ انسان کی طرح جاتے ہیں اور میں اس طرح محسوس کرتا ہوں کہ گویا میرے دل پر معافی کی ایک پوٹلی اپنا چہرہ بنایا اور اپنی زبان باہر نکال کر کانوں کی طرف ہاتھ اٹھائے اور کہا کہ میں نے یہ بندھی ہوئی گرا دی جاتی ہے۔حضور نے فرمایا کہ ہمیں قرآن شریف کے معارف کہاں لکھا ہے یا کب لکھا۔یعنی نہیں لکھا۔دے کر ہی مبعوث کیا گیا ہے اور اسی کی خدمت ہمارا فرض مقرر کی گئی ہے۔پس ہماری صحبت کا بھی یہی فائدہ ہونا چاہئے۔(سیرۃ المہدی حصہ اول صفحه ۲۴۴ روایت نمبر۲۷۰) حضرت میاں عبداللہ سنوری صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام (سیرۃ المہدی حصہ اول صفحه ۸۳ روایت نمبر ۱۰۸) کے کئی ارشادات بھی سنایا کرتے۔اُن کی روایت ہے کہ حضور فرماتے تھے کہ مجھے وہ لوگ جو دنیا میں سادگی سے زندگی بسر کرتے ہیں بہت ہی حضرت میاں عبد اللہ سنوری صاحب حضور کی صحبت سے فیضیاب ہونے کی پوری کوشش فرمایا کرتے۔حضور کی نصائح اپنی نوٹ بک میں درج فرما لیا کرتے۔آپ کی نوٹ بک میں تحریر ہے کہ ۱۳۰۳ھ ماہ ذی الحجہ بروز جمعہ بوقت دس بجے حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ اگر کسی شخص کا خوف اور دل پر اس کے رعب پڑنے کا اندیشہ ہو تو آدمی صبح کی نماز کے بعد تین دفعہ یسین پڑھے اور اپنی پیشانی پر خشک انگلی سے یا عزیز لکھ کر اُس کے سامنے چلا جاوے انشاء اللہ اس کا رعب نہیں پڑے گا۔بلکہ خوداس پر رعب پڑ جائے گا۔(سیرۃ المہدی حصہ اول صفحه ۱۲۲ روایت نمبر ۱۳۴) پیارے لگتے ہیں۔“ (سیرت المہدی حصہ اول صفحه ۲۴۰ روایت نمبر ۲۶۱) اسی طرح یہ بھی کہ الْإِسْتِقَامَةُ فَوقَ الْكَرَامَةِ “ (سیرت المہدی حصہ اول صفحه ۲۴۴ روایت نمبر ۲۶۸) اور مرضی مولا از ہمہ اولی یعنی خدا کی رضا سب سے مقدم ہونی چاہئے۔(سیرۃ المہدی حصہ اول صفحه ۲۴۰ روایت نمبر ۲۶۲) حضرت میاں عبداللہ سنوری صاحب اپنے محبوب آقا کے لئے دل میں