حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ

by Other Authors

Page 11 of 26

حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ — Page 11

19 18 سرانجام دیتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سفروں میں رفاقت اسی طرح سفر ہوشیار پور کے دوران ہونے والے تمام اخراجات کا حساب حضرت عبداللہ سنوری صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے نوٹ کرنے کا کام بھی آپ کے سپر د تھا۔جو آپ تفصیل کے ساتھ تاریخ وار نوٹ کیا بہت سے سفروں میں آپ کے ہمراہ رہنے کا موقع ملا۔جب حضور کسی سفر پر جانے کا کرتے تھے۔(سیرت المہدی حصہ اوّل صفحه ۱۲۱ روایت نمبر ۱۳۳) ان ایام کے بارے میں حضرت صاحب نے منشی عبداللہ سنوری صاحب ارادہ فرماتے ، حضرت منشی عبداللہ سنوری صاحب کو خط لکھ کر بلوا لیتے تھے۔چنانچہ آپ کو ہوشیار پور، لدھیانہ، بٹالہ، انبالہ، امرتسر، علی گڑھ اور جالندھر کے سفروں میں حضور کی رفاقت نصیب ہوئی۔یوں تو یہ تمام سفر ہی بہت تاریخی تھے۔جن میں قدم قدم پر سے فرمایا کہ میاں عبداللہ ان دنوں میں مجھ پر بڑے بڑے خدا تعالیٰ کے فضل ہوئے آپ کو اپنے پیارے آقا کی خدمت کی توفیق ملتی رہی اور خدا تعالیٰ کے بے شمار نشانات ہیں اور فضل کے دروازے کھلے ہیں اور بعض دفعہ دیر دیر تک خدا تعالیٰ مجھ سے باتیں کرتا رہتا ہے۔اگر اُن کولکھا جاوے تو کئی ورق ہو جاویں۔دیکھنے کی سعادت ملی۔لیکن سفر ہوشیار پور کا ذکر اپنی ذات میں منفرد ہے۔۱۸۸۴ ء میں حضور نے گوشتہ تنہائی میں جا کر چلہ کشی کا ارادہ فرمایا جس کے لئے سو جان پور کا پہاڑ پسند فرمایا۔آپ نے اس بارے میں مولوی عبد اللہ سنوری تاریخ احمدیت جلد نمبر ا صفحه ۲۷۶) موعود بیٹے کے متعلق الہی بشارتیں بھی اس چلہ کشی میں آپ کو عطا ہوئیں صاحب کو بھی لکھ بھیجا جس پر مولوی عبد اللہ سنوری صاحب نے حضور کے شریک سفر تھیں اور چلہ کے بعد ہوشیار پور سے ہی آپ نے اس پیشگوئی یعنی پیشگوئی مصلح ہونے کی خواہش کا اظہار کیا جسے حضور نے منظور فرمایا۔مگر پھر حضور کو الہام ہوا کہ موعود کا اعلان فرمایا تھا۔تمہاری عقدہ کشائی ہوشیار پور میں ہوگی۔چنانچہ آپ نے سو جان پور کی بجائے ہوشیار ان سفروں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی توجہ باطنی اور پور جانے کا ارادہ کر لیا۔اور جب حضور جنوری ۱۸۸۶ء میں اس تاریخی سفر پر تشریف دعاؤں سے آپ کی تربیت فرماتے رہے۔جس کے نتیجے میں ایک طرف آپ کی لے جانے لگے تو حضور نے خط لکھ کر منشی عبداللہ سنوری صاحب کو قادیان بلوالیا۔اس حضور سے محبت گہری ہوتی چلی گئی تو دوسری طرف آپ کو خود بھی مجاہدات کے بے نظیر عظیم الشان تاریخی سفر میں آغاز سے اختتام تک آپ کو حضور کے رفیق سفر رہنے کا مواقع ملتے رہے اور آپ عرفانِ الہی کی بہت سی منزلیں طے کر گئے۔خدا تعالیٰ کی شرف نصیب ہوا۔ہوشیار پور میں قیام کے دوران چلہ کشی کے دنوں میں منشی عبداللہ طرف سے آپ پر رویاء وکشوف کے دروازے کھل گئے۔ان رویاء صالحہ میں ایک سنوری صاحب کے سپر د خاص طور پر کھانا وغیرہ تیار کرنے اور حضور کی خدمت میں رویاء حضرت مصلح موعود کے متعلق ہے۔جس کے بارے میں آپ بیان فرماتے ہیں: پیش کرنے کا کام تھا جو آپ بہت توجہ اور شوق، اخلاص اور عقیدت وارادت کے ساتھ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ دو آفتاب جن کے درمیان کچھ