حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ؓ

by Other Authors

Page 4 of 16

حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ؓ — Page 4

5 4 تڑپ پیدا ہوئی کہ کاش ہم بھی اس عظیم آدمی سے فیض حاصل کر سکیں۔اسی طرح آپ بیان کرتے ہیں کہ مندرجہ ذیل شعر پڑھنے سے آپ کے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخالفوں کے رویہ کی وجہ سے بہت افسوس پیدا ہوا۔کافر و ملحد و دجال ہمیں کہتے ہیں نام کیا کیا غم ملت میں رکھایا ہم نے گیا۔جب آپ کے استاد حضرت مولوی امام الدین صاحب کو علم ہوا تو انہوں نے کہا کہ آپ نے بیعت کرنے میں جلدی کی ہے۔بہتر ہوتا ہے کہ آپ پوری تحقیق کرتے تاکہ آپ کو تسلی ہو جاتی۔آپ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میری تسلی ہوگئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کا شرف آپ کو 1899ء میں نصیب ہوا۔آپ کے ساتھ آپ کے استاد حضرت مولانا امام الدین صاحب بھی قادیان آئے اور انہوں نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر لی۔آپ خود قادیان پہنچ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت اور بیعت کا یہ کتاب پڑھنے کے بعد آپ نے اپنے استاد حضرت مولانا امام الدین صاحب سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق پوچھا۔انہوں نے بتایا کہ آپ قادیان ضلع گورداسپور کے رہنے والے غلام احمد صاحب ہیں اور یہ کہ آپ نے مسیح و واقعہ بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں۔مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب پڑھنے اور آپ کا تعارف سننے کے بعد پہلا فقرہ جو آپ کے منہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق نکلا وہ یہ تھا کہ دنیا بھر میں اس شخص کے برابر کوئی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ 66 وسلم کا عاشق نہیں ہوا ہو گا۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت اور زیارت ستمبر یا اکتوبر 1897ء میں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بیعت کا خط لکھ دیا جس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے منظور فرما لیا اور آپ کو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے ہاتھ کا لکھا ہوا جواب بھی موصول ہو ( بیت ) مبارک کے زینہ سے چڑھتے ہوئے میں تو نذرانہ پیش کرنے کے لئے رقم نکالنے لگا اور حضرت مولوی صاحب حضرت اقدس کی خدمت میں جا پہنچے۔حضور نے مصافحہ کا شرف بخشتے ہی فرمایا۔وہ جو لڑ کا آپ کے پیچھے آرہا ہے اس کو بلاؤ چنانچہ مولوی امام الدین صاحب پیچھے لوٹے اور مجھے کہنے لگے کہ حضور آپ کو یاد کرتے ہیں۔میں بے ساختہ حضور علیہ السلام کے قدموں پر گر گیا اور روتے روتے میری ہچکی بندھ گئی۔حضور نے نہایت شفقت سے میرے سر پر اور میری پیٹھ پر دست مسیحائی پھیرا اور مجھے دلاسہ دیا اور میں نے دوبارہ دستی بیعت کی۔“ حیات قدسی حصہ اول صفحہ 19-20)