حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ؓ

by Other Authors

Page 3 of 16

حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ؓ — Page 3

3 2 ولادت ، وطن تعلیم حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعارف جن دنوں آپ گولیکی گاؤں میں حضرت مولانا امام الدین صاحب سے آپ کی پیدائش 1877 ء اور 1879 ء کے دوران بھادوں کے موسم میں را جیکی ضلع گجرات ( پنجاب ) میں ہوئی۔آپ کی کنیت ابوالبرکات تھی۔آپ کے پڑھا کرتے تھے انہی دنوں کی بات ہے کہ آپ بیت الذکر میں حضرت مولانا صاحب سے سبق پڑھ رہے تھے کہ ایک سپاہی آیا جس کے پاس حضرت مسیح موعود والد کا نام میاں کرم دین صاحب اور والدہ کا نام آمنہ بی بی صاحبہ تھا۔آپ کی قوم وڑائچ تھی۔آپ کی والدہ صاحبہ نے آپ کی پیدائش سے قبل خواب میں دیکھا تھا کہ علیہ السلام کی کتاب ” آئینہ کمالات اسلام تھی۔حضرت مولا نا امام الدین صاحب گھر میں ایک چراغ روشن ہوا ہے جس کی روشنی سے سارا گھر جگمگا اٹھا ہے۔آپ نے پرائمری تک کی تعلیم موضع منگووال ( ضلع گجرات) میں پائی اور نڈل کی تعلیم کے لئے قصبہ کنجاہ میں داخل ہوئے لیکن ابھی آپ کی تعلیم مکمل نہ ہوئی تھی کہ آپ کے ایک بھائی کی وفات کی وجہ سے والد صاحب نے آپ کو واپس بلا لیا۔چنانچہ آپ نے اپنے ہی گاؤں میں میاں محمد دین صاحب سے فارسی کی چند کتابیں سکندر نامہ اور ابوالفضل وغیرہ پڑھیں اور مثنوی مولانا روم پڑھنے کے لئے آپ نے حضرت مولانا امام الدین صاحب جو گولیکی ضلع گجرات کے رہنے والے تھے، کی شاگردی اختیار کی اور 1899ء میں قادیان سے واپسی پر آپ مدرسہ رحیمیہ لاہور میں مولوی فاضل کی جماعت میں داخل ہو گئے۔چونکہ آپ کا رجحان تصوف کی طرف زیادہ تھا اس لئے باقی طالب علم آپ کو صوفی کہ کر پکارا کرتے تھے۔آدھا سال گزرنے کے بعد جب مدرسہ میں موسمی تعطیلات ہوئیں تو آپ وطن واپس چلے آئے اور دعوت الی اللہ میں مشغول ہو گئے۔آپ دعوت الی اللہ میں اس قدر منہمک ہوئے کہ مزید تعلیم حاصل کرنے کا خیال چھوڑ دیا۔نے یہ کتاب دیکھی تو پڑھنے کی خاطر کچھ دنوں کے لئے اس سپاہی سے لے لی۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی نے بھی اس کتاب کو پڑھا اور اس طرح آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے پیغام کا تعارف ہوا۔اس کتاب میں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظمیں پڑھیں جنہوں نے آپ کو بہت متاثر کیا۔ان میں سے ایک کا پہلا شعر ہی یہ تھا کہ عجب نوریست در در جان محمد عجب لعلیست کان محمد ( ترجمہ محمد کی جان میں عجب نور ہے۔محمد کی کان میں عجب لعل ہے ) جب آپ نے اس پوری نظم کو پڑھا تو آپ کے دل پر بہت اثر ہوا یہاں تک کہ آپ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل آئے۔اسی طرح یہ شعر کہ کرامت گرچه بے نام و نشان است بیا بنگر غلمان P (ترجمہ: کرامت اگر چہ بے نام و نشان ہے۔تو آ اور محمد کے غلاموں سے دیکھ ) آپ بیان کرتے ہیں کہ اس شعر کے پڑھنے سے میرے دل میں شدید