حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ؓ — Page 12
21 20 شامل ہیں۔نہیں تھی مگر بعد میں جیسے یکدم کسی کو پستی سے اٹھا کر بلندی تک پہنچادیا جاتا ہے۔اسی آپ کی تصانیف میں سے حیات قدسی ، توحید باری تعالیٰ ، کشف الحقائق طرح خدا تعالیٰ نے ان کو قبولیت عطا فرمائی اور ان کے علم میں ایسی وسعت پیدا کر کلمتہ الفصل (عربی) خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔علاوہ ازیں آپ نے ہزاروں صفحات دی که صوفی مزاج لوگوں کے لئے ان کی تقریر بہت ہی دلچسپ، دلوں پر اثر کرنے پر مشتمل علمی مسودات بھی اپنی یادگار چھوڑے جن کے بعض حصے ”حیات قدی“ میں والی اور شبہات و وساوس کو دور کرنے والی ہوتی ہے۔گزشتہ دنوں میں شملہ گیا تو ایک دوست نے بتایا کہ مولوی غلام رسول صاحب را جیلی یہاں آئے اور انہوں نے ایک جلسہ میں تقریر کی جو رات کے گیارہ ساڑھے گیارہ بجے ختم ہوئی۔تقریر کے بعد ایک ہندو ان کی منتیں کر کے انہیں اپنے گھر لے گیا اور کہنے لگا کہ آپ ہمارے گھر میں چلیں آپ کی وجہ سے ہمارے گھر میں برکت نازل ہوگی۔“ (خطبہ جمعہ فرموده 8 نومبر 1940 ء ) آپ کی بزرگی ، زہد و تقوی اور خدمات جلیلہ کے سبب سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثانی نور الله مرقدہ نے فروری 1957ء میں آپ کو صدرانجمن احمد یہ پاکستان آپ بیک وقت عربی، فارسی، اردو اور پنجابی کے قادر الکلام شاعر تھے۔آپ کی پنجابی نظمیں اور سہ حرفیاں بہت مقبول ہوئیں اور خاص طور پر آپ کی نظم جھوک مہدی والی تو دیہاتی جماعتوں میں زبان زدعام رہی اور بہتوں کی ہدایت کا موجب بنی۔علاوہ ازیں بعض رسائل و کتب درج ذیل ہیں: (۱) گلدسته احمدی (۲) جام وحدت (۳) اظہار حقیقت (۵) مباحثہ لاہور کا مستقل ممبر مقر فرمایا۔چنانچہ آپ اپنے وصال تک صدر انجمن احمدیہ کے ممبر ہے (1) التنقيـد بـجـواب الخبر الصحيح عن قبر المسيح (عربي)(۷) مذہب کی علاوہ ازیں آپ افتاء کمیٹی کے بھی رکن تھے۔تعریف اور اس کی ضرورت (۸) اسوة الثّقاة (۹) تصدیق اسیح (۱۰) جھوک اگر چہ حضرت مولوی صاحب کی زندگی کا لمبا عرصہ سفروں میں گزرا جس کی مہدی والی (۱۱) کا من احمدی (۱۲) رسالہ اب یا رب وجہ سے کتب کی تالیف و تصنیف کے لئے زیادہ وقت آپ کو میسر نہ آسکا لیکن اس کے باوجود آپ نے اردو اور عربی زبان میں اہم علمی موضوعات پر سینکڑوں قیمتی مضامین لکھے جو سلسلہ کے اخبارات میں وقتا فوقتاً شائع ہوتے رہے۔اسی طرح حقائق و معارف سے پُر آپ کی جلسہ سالانہ کی تقاریر بھی شائع ہوئیں جن میں سے بعض علیحدہ کتابی صورت میں بھی طبع ہوئیں۔آپ کا علمی فیض بعد کے مربیان کے علاوہ سلسلہ کے کئی بزرگوں کو بھی آپ کے علم سے فیض حاصل کرنے کا موقعہ ملا۔جیسا کہ حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب، حضرت