حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ؓ — Page 11
19 18 علیہ السلام کی صداقت کا نشان دکھایا ہے۔وہ شرمندگی سے چھپ کر اپنے گاؤں چلا مناظر تھا وہ کلکتہ کالج میں عربی کا پروفیسر تھا اسے فکر ہوا کہ اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی تو شرمندگی ہوگی۔اس طرح کسی عالم کو مقابلہ کی جرات نہ ہوئی۔مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی کرسی پر چڑھ کر نعرے بلند کرنے لگے۔لیکن الفاظ پورے نہ نکلے گیا اور آٹھ احباب نے بیعت کر لی۔اسی طرح کی تائید 1912ء میں مبادی مولکھیر میں بھی ہوئی جہاں حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کے ارشاد پر حضرت مولوی سرور شاہ صاحب، میر قاسم علی صاحب، کہ کرسی اُلٹی اور ان کا سر نیچے اور ٹانگیں اوپر ہوگئیں اور پگڑی ڈور جاپڑی اور ان کے حضرت حافظ روشن علی صاحب اور آپ پہنچے۔غیر احمدیوں نے یہ سمجھ کر کہ احمدی ساتھیوں نے جن کو ان مولوی صاحب نے دعوت دی تھی کہ قادیانی علماء عربی بالکل عربی میں مباحثہ نہیں کر سکیں گے اصرار کیا کہ پہلا پرچہ احمدی مناظر عربی میں لکھے اور پھر ترجمہ کے ساتھ پڑھ کر سنائے۔اس موقعہ پر قریباً ڈیڑھ سو مخالف علماء جمع تھے۔فیصلہ ہوا کہ حضرت راجیکی صاحب مناظر ہوں۔مجمع پندرہ ہزار افراد پر مشتمل تھا۔دو دو صدر فریقین کے اوپر اور ایک صدر اعظم ہند و آنریری مجسٹریٹ تھے۔پولیس کے اعلیٰ افسر بھی موجود تھے۔مولانا راجیکی صاحب نے اپنا پر چہ بمع ترجمہ لکھا اور سنانے کیلئے کھڑے ہوئے تو محسوس کیا کہ کوئی چیز آسمان سے اتر کر آپ کے وجود اور حواس پر مسلط ہوگئی گویا کہ روح القدس کی بجلی ہوئی۔اس وقت تائید الہی سے آواز اس قدر بلند ہوگئی کہ تمام حاضرین تک پہنچتی تھی اور خوش الحانی بھی پیدا ہو گئی۔یہ دیکھ کر کہ اس کا اثر ہورہا ہے مخالفین بلکہ ان کے صدروں نے بھی بار بارٹو کنا اور شور مچانا شروع کر دیا۔بار بار صدر اعظم نے ان مخالفین کو روکا۔اسی دوران آٹھ اچھے نہیں جانتے۔ان کے اس جھوٹ کی وجہ سے ملوں اور لاتوں سے ایسی درگت بنائی کہ الامان والحفیظ علمی قابلیت و قلمی خدمات صوفیانہ اور درویشانہ مزاج کے ساتھ ساتھ آپ علمی لحاظ سے بھی ایک بہت بلند اور خاص مقام رکھتے تھے۔آپ کی عربی دانی نہ صرف جماعت میں بلکہ غیر از جماعت اہل علم حضرات کے نزدیک بھی مسلم تھی۔آپ کے عربی قصائد منقوطہ وغیر منقوطہ ( نقطوں والے اور بغیر نقطوں کے) نے آپ کی عربی دانی اور علم کا سب سے لوہا منوایا تھا۔آپ کے آقا سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نَوَّرَ اللَّهُ مَرْقَدَهُ نے جن کے پڑھے لکھے افراد جن میں سے بعض گریجویٹ بھی تھے سٹیج کی طرف بڑھے اور کہا کہ فیض صحبت سے آپ نے بہت کچھ حصہ پایا اور آپ کے علم و عرفان کو جلا ءنصیب ہم ابھی قبول احمدیت کا اعلان کرنا چاہتے ہیں مگر ان کو ڈیرہ پر آنے کے لئے کہا گیا۔ہوئی ، آپ کے متعلق فرمایا: صدر اعظم نے جلسہ برخواست ہونے کا اعلان کر دیا کیونکہ مخالفین کے خلاف توقع حضرت مولوی صاحب نے پرچہ عربی میں لکھ کر سنانا شروع کیا تھا۔مقابل پر جو میں سمجھتا ہوں کہ مولوی غلام رسول صاحب را نیکی کا اللہ تعالی نے جو بحر کھولا ہے وہ بھی زیادہ تر اسی زمانہ سے تعلق رکھتا ہے۔پہلے ان کی علمی حالت ایسی