حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ؓ — Page 5
7 6 آپ کے والدین کا جماعت سے تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شفقت آپ کی والدہ محترمہ احمدیت و سچا گھتی تھیں اور تکلیف کے وقت برکات زلزلہ کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام باغ میں خیمہ لگا کر رہتے کے حاصل کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یاد کرتی تھیں۔اسی طرح تھے تو مولوی صاحب نے ایک دن اپنے گرتے کے بٹن کھول کر عرض کیا کہ حضور آپ کے والد محترم نے اگرچہ بیعت نہیں کی تھی لیکن وہ عام طور پر نماز میں احمد ہوں میرے سینہ پر پھونک ماریں اور دستِ مبارک بھی پھیریں۔حضور علیہ السلام نے کے ساتھ ہی پڑھا کرتے تھے اور جب مخالفین اعتراض کرتے اور مخالفت کرتے تو آپ کی خواہش پر از راہ شفقت ایسا ہی کیا۔آپ ہمیشہ احمدیوں کا ساتھ دیا کرتے تھے۔ایک دفعہ آپ قادیان آئے تو شر میلے پن کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ بزرگانِ سلسلہ حضور علیہ السلام کے قریب ہوتے ہیں، دو تین دن تک حضور علیہ السلام سے ملاقات کا شرف حاصل نہ کر سکے۔چنانچہ آپ نے ایک رقعہ میں اس کیفیت کو بیان کر کے حضور علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا۔جب حضور علیہ السلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجالس میں ، 1899ء میں جب آپ کو پہلی مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ( بیت ) مبارک میں تشریف لائے تو آپ کو دیکھتے ہی فرمایا کیوں جی آپ اتنے دنوں سے آئے ہوئے ہیں اور ابھی تک ملے نہیں۔آپ نے جو وجہ رقعہ میں لکھی زیارت کا شرف حاصل ہوا تو آپ نے اس وقت دستی بیعت بھی کی۔ان دنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام باہر خدام کے ساتھ ہی کھانا تھی پھر عرض کر دی۔حضور علیہ السلام نے فرمایا۔خواہ کوئی بھی ہو آپ میرے پاس آکر بیٹھا کریں۔اس طرح سب بزرگوں نے بھی یہ بات سن لی اور آپ کو بھی جرات ہو گئی۔چنانچہ حضور علیہ السلام کی اس شفقت کے نتیجہ میں جب بھی حضور علیہ السلام ( بیت الذکر ) میں تشریف رکھتے تو آپ عموماً حضور علیہ السلام تناول فرماتے تھے۔چنانچہ آپ کو بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ کھانا کھانے اور حضور کا بچا ہوا تبرک کھانے کی سعادت نصیب ہوئی۔ایک دفعہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کے لئے قادیان حاضر ہوئے لیکن آپ کے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ آپ نذرانہ پیش کر سکیں۔چنانچہ کے پاس بیٹھ کر آپ کا جسم مبارک دبانا شروع کر دیتے۔آپ نے دوآنہ کے پتاشے خرید کر حضور علیہ السلام کی خدمت میں بطور نذرانہ پیش کئے جو حضور نے بڑی خوشی سے قبول فرمائے اور گھر کے اندر بھجوا دیئے۔ایک دفعہ آپ نے بیت مبارک میں 133 اشعار پر مشتمل اپنا ایک قصیدہ نایا جس کا یہ شعر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بہت پسند فرمایا اور دوبارہ پڑھنے کا