حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 204
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل۔204 جوکوئی خدا سے ہوتا ہے وہ خدا کی باتیں سنتا ہے۔(یوحنا باب ۸ آیت ۴۷) جو اُس کے نام پر ایمان لاتے ہیں۔۔۔خدا سے پیدا ہوتے ہیں۔جوکوئی راستبازی کے کام کرتا ہے وہ اس سے پیدا ہوا ہے۔(یوحنا باب ۱ آیت ۱۲ ۱۳) ( یوحنا باب ۲ آیت ۲۹) جو کوئی محبت رکھتا ہے وہ خدا سے پیدا ہوتا ہے۔( یوحنا باب ۵ آیت ۱) شاعروں میں سے بعض نے کہا کہ ہم تو اسکی نسل ہیں پس خدائی نسل ہو کر یہ خیال کرنا مناسب نہیں۔(اعمال باب ۱۷ آیت ۲۸-۲۹)۔۔۔۔۔سب ایک ہی نسل سے ہیں۔(عبرانیوں باب ۲ آیت ۱۱) پس معلوم ہوا کہ کسی سے نکلنے یا کسی سے ہونے سے مراد تعلق اور قرب کا اظہار ہے نا کہ خدائی کا ثبوت۔ورنہ مذکورہ بالا سب افراد کو خدا ماننا پڑے گا۔یسوع کے لئے کل اور آج بلکہ ابد تک یکساں ہے۔(عبرانیوں باب ۱۳ آیت ۸) اس سے بھی مسیح علیہ السلام کی الوہیت کے متعلق استدلال کیا جاتا ہے حالانکہ تو رات میں صاف لکھا ہے:۔پیشتر اس سے کہ پہاڑ پیدا ہوئے اور زمین اور دنیا کو تو نے بنایا ازل سے ابد (زبور باب ۹۰ آیت ۲) تک تو ہی خدا ہے۔مجھ سے آگے کوئی خدا نہ بنا اور میرے بعد بھی کوئی خدا نہ ہوگا۔یعیاه باب ۴۳ آیت ۱۰)۔۔۔ملک صدق بے باپ بے ماں بے نسب نامہ ہے نہ اس کے دنوں کا شروع نہ زندگی کا آخر بلکہ خدا کے بیٹے کے مشابہ ٹھہرا۔(عبرانیوں باب ۷ آیت ۳)