حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 195 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 195

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل نے یکسر نظر انداز کر دیا اور اس ابتدائی عقیدہ اور چوتھی اور پانچویں صدی کے رومن اور اسکندرین عیسائی علماء کے عقیدہ میں ایک گہری خلیج حائل ہوگئی۔اس کے بعد یہی عیسائی عام قرآنی مسیح پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: مسلمانوں کے قرآن میں حضرت مسیح کے خدائی عقیدہ کو کفر قرار دیا گیا ہے اور اسے رڈ کر دیا گیا ہے اسطرح قرآن موجودہ عیسائیت کی نسبت ابتدائی عیسائیوں کے 195 قریب ترین ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں (سورۃ الزخرف : آیت ۶۰) لکھا ہے: ر مسیح اس کے سوا اور کچھ نہیں کہتا کہ وہ ہمارا ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا اور اسے اسطرح بنی اسرائیل کیلئے ایک مثال بنایا اور اسے ساعت آخر کا نشان بنایا گیا۔متذکرہ بالا تبصرہ ایک بہت بڑے عیسائی عالم فریڈرک کارن والس کان بیئر ایم اے کا ہے جو یو نیورسٹی آکسفورڈ کالج اور برٹش اکیڈمی کے فیلو اور ایک ممتاز رکن گزرے ہیں۔اس طرح ایک اور بہت بڑے عالم اور امریکہ کے مشہور فاضل پادری جو کہ مشہور مذہبی لیڈر اور سکالر ہیں اور ریورنڈ رڈاکٹر چارلس فرانس پوٹر کے نام سے موسوم ہیں۔آپ نے کئی ڈگریاں حاصل کیں اور ڈاکٹر آف لٹریچر بھی ہیں۔آپ نے ایک کتاب بحر مردار کے صحائف کے انکشاف پر لکھی ہے جس کا نام حضرت مسیح کی زندگی کے نامعلوم گوشوں کا انکشاف ہے۔"The Lost Years of Jesus Revealed" یہ کتاب گولڈ میڈل بک کمپنی نے شائع کی ہے۔صاحب موصوف نے اس میں ثابت کیا ہے کہ جیسے جیسے صحائف قمران اشاعت پذیر ہورہے ہیں کلیسیا ئی عقائد کا بطلان دنیا میں منکشف ہورہا ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ: محققین کا یہ خیال ہے کہ یہ شخص (صحائف قمران کا صادق استاد ) قبل مسیح کی کوئی عظیم شخصیت ہے جو کہ حضرت مسیح کیلئے نمونہ اور لائحہ عمل تھے بعض لوگ کہتے ہیں کہ صادق استاد سے مراد خود مسیح ہیں بہر کیف جیسے جیسے صحیفوں کے طومار کھل رہے ہیں اور