حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 196 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 196

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 196 بیش بہا قطعات اور اوراق پڑھے جارہے ہیں مبرهن طور پر سامنے آ رہا ہے کہ وہ عجیب و غریب اور حیرت انگیز شخصیت جس کا نام صادق استاد ہے وہ زیادہ تر ایک بشر رسول یسوع نام کے مشابہہ ہے۔نہ کہ اس روایتی یسوع کے جسے الوہیت کا اقنوم ثانی تسلیم کیا جاتا ہے۔(By Rev۔Doc۔Charles Francis Poter printed by Gold Medal Books Co۔1959 Page 128) (The completed Dead Sea Scrolls by Geza Vermes, published by Penguin Books Itd۔27 Wrights Lane W8 5T2 London 1998) پھر لکھتے ہیں : یہ امر نظر انداز نہ کیجئے کہ اس کرہ ارض پر بسنے والے لوگوں کا بڑا حصہ ایسا ہے جو کہ باوجود انہیں سو سال کی عیسائی مشنریوں کی سرتوڑ کوشش کے یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ حضرت مسیح خدا تھے دوسرے مذاہب کے پیروکار مثلاً کنفیوشس اور بدھ کے ماننے والے حضرت مسیح کو عظیم مصلح اور رسول تصوّر فرماتے ہیں یعنی ایک بشرنہ کہ خدا۔مسلمانوں کو جن کو ہم محمدن کہتے ہیں تو وہ برا مناتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ مسلمان خود کو تو حید کا دلدادہ سمجھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم محمد کے پرستار نہیں بلکہ یہود کی طرح ایک خدا کو ماننے والے ہیں۔ہم مسیح علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کی عزت کرتے ہیں اور انہیں نبی سمجھتے ہیں ہم محمد ﷺ کو سب سے بڑا نبی سمجھتے ہیں لیکن ہم ان کی پرستش نہیں کرتے۔ہم خدائے واحد یعنی اللہ کے پرستار ہیں۔اس طرح دنیا میں لکھوکھا حقیقی عزت کے قابل لوگ موجود ہیں جن میں سائنس دان فلاسفرحکماء معلمین اور دوسرے پیشوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں جو کہ دنیائے عیسائیت میں رہتے ہیں لیکن ان کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت مسیح خدا نہ تھے۔ہم عیسائیوں کو اپنی مردم شماری کے مطابق